ایک رئیس خاندان کی کنواری بیٹی گھڑ سواری کرتے ہوئے اپنی کولہے کی ہڈی تڑوا بیٹھی مگر کسی مرد حکیم کو اپنا جسم چھونے اور علاج کروانے سے انکار کر دیا ، پھر ایک بزرگ اور جہاندیدہ حکیم نے کیسی چال چل کر اس کا علاج کیا ؟ ایک سبق آموز واقعہ

لاہور (ویب ڈیسک) ایسا کہا جاتا ہے کہ قدیم زمانے میں ایک رئیس کی بیٹی گھڑا سواری کے دوران گھوڑے سے نیچھے گر گئی اور اُس کے کولہے کی ہڈی اپنے بند سے جدا ھو گئی۔ لڑکی کے باپ نے بہت سے حکیموں سے علاج کروانے کی کوشش کی کہ ہڈی کو واپس

اپنی جگہ پر بٹھائیں مگر مصیبت یہ تھی کہ لڑکی کسی حکیم کو اپنا جسم چھونے کی اجازت نہیں دیتی تھی۔ باپ نے بہت اصرار کیا کہ شریعت نے مجبوری میں اور علاج کے سلسلے میں اسکی اجازت دی ہے مگر بیٹی کسی طرح راضی نہیں ہو رہی تھی اور دن بہ دن کمزور ہوتی جا رہی تھی۔ آخر لوگوں نے مشورہ دیا کہ شہر سے باھر ایک بہت حاذق حکیم رہتے ہیں اُن سے مشورہ کر لیں۔ وہ شخص حکیم صاحب کے پاس گئے اور اپنا مسئلہ بیان کیا تو حکیم صاحبتو حکیم صاحب کہنے لگا کہ ایک شرط پر میں آپ کی بیٹی کا کولہا ہاتھ لگائے بغیر واپس بٹھا سکتا ہوں۔ وہ شخص کہنے لگا کہ جو بھی شرط ہو وہ قبول کرنے پر آمادہ ہے۔ حکیم نے کہا کہ شرط یہ ہے کہ ایک بہت موٹی تازی گائے میرے لئے لا دو تو میں علاج کر دوں گا آپ کی بیٹی کا۔ وہ شخص بہت بھاری قیمت پر شہر کی سب سے تنومند گائے خرید کر حکیم صاحب کے گھر لے گیا۔ حکیم صاحب نے کہا کہ آپ اپنی بیٹی کو پرسوں اپنے ساتھ لے آئیں، اُسی دن اللہ کے حکم سے اُس کا علاج کر

دوں گا۔ جب وہ شخص چلا گیا تو حکیم صاحب نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ دو دنتک نہ تو گائے کو گھاس کا ایک تنکا کھلایا جائے اور نہ پانی کا ایک قطرہ پلایا جائے۔ شاگرد حیران ہوئے کہ اِتنی تنومند گائے دو دن میں بھوک اور پیاس سے مر نہ جائے مگر چونکہ استاد کا حکم تھا اس لئے تعمیل کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ دو دن تک گائے بھوک اور پیاس کی شدّت سے بہت کمزور ہو گئی۔ دوپہر کے وقت وعدے کے مطابق وہ شخص اپنی بیٹی کو چارپائی پر ڈال کر حکیم صاحب کے پاس لے آیا۔ حکیم نے لڑکی کے والد سے کہا کہ اپنی بیٹی کو گائے کی پیٹھ پر بٹھا لیں۔ سب بہت حیران ھوئے لیکن حکم ماننے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہ تھا۔ لڑکی کو گائے کی پیٹھ پر بٹھا دیا گیا۔ اب حکیم صاحب نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ لڑکی کے دونوں پاؤں گائے کے پیٹ کے گرد رسّی سے باندھ دیں۔ یہ کام ہونے کے بعد حکیم صاحب نے شاگردوں سے کہا کہ اب گائے کے سامنے گھاس اور دوسری خوراک ڈال دو۔

گائے دو دن کی بھوکی پیاسی تھی۔ جلدی جلدی کھانے لگی. حکیم صاحب نے اُس کے سامنے پانی کی بڑی سی بالٹی میں بہت سا نمک ڈال کر رکھ دیا اور گائے تیزی سے پانی پینے لگی.پانی میں نمک کی آمیزش نے پیاس کی شدّت اور بڑھا دی تو گائے نے ایک ساتھ بہت سا پانی پی لیا۔ گھاس اور پانی نے گائے کا پیٹ پُھلانا شروع کر دیا اور لڑکی کی ٹانگیں پر دباؤ اتنا بڑھا کہ وہ چیخنے لگ گئی۔ اچانک کھڑاک کی آواز آئی اور لڑکی شدّتِ درد سے بے ہوش ہو گئی۔ حکیم صاحب نے لڑکی کو گائے سے اُتروا کر اُس کے والد سے کہا کہ آپ کی بیٹی کے کولھے کی ھڈی اپنی جگہ پر واپس بیٹھ گئی ہے اور یہ گائے آج سے میری ہے۔ یہ کوئی اور نہیں حکیم بو علی سینا تھے جن کا نام بعد میں چہار دانگِ عالم میں مشہور ہو گیا۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں