آج کل رات گئے اسلام آباد میں جمنے والی صف اول کے صحافیوں کی محفلوں میں عمران خان کے بارے میں کیا قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں جو 100 فیصد درست مگر کپتان ان سے مکمل طور پر بے خبر ہیں ۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) اسے تحریکِ انصاف کی بد قسمتی ہی کہا جا سکتا ہے کہ عمران خان صاحب کے حق میں بولنے اور لکھنے والے دلبرداشتہ ہو کر آہستہ آہستہ ان سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ میڈیا کا وہ طبقہ جو عمران خان صاحب کا حامی تو نہیں‘ لیکن ان سے ہمدردی رکھتا ہے‘

نامور کالم نگار منیر احمد بلوچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔دیکھ رہا ہے کہ آج کل ان صاحب نے میڈیا کے نام پر ایسے لوگ اپنے ارد گرد جمع کر رکھے ہیں‘ جو کل تک عمران خان کے خلاف کہانیاں تراشتے اور ان پر الزام تراشی کرتے تھے۔ اسلام آباد میں رات گئے لگنے والی محفلوں میں عمران خان صاحب کا مخالف یہ ٹولہ جس طرح کی باتیں کرتا ہے‘ وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ کیا وزیر اعظم تک ان محفلوں اور رابطوں کی معلومات نہیں پہنچتیں؟ دوسری جانب یہ میڈیا ایڈوائزر‘ جن پر وزیر اعظم تکیہ کئے بیٹھے ہیں‘ اتنے نااہل ہیں کہ ساہیوال واقعے کو سنجیدگی سے ہینڈل ہی نہیں کر سکے۔ بلا شبہ ساہیوال کا دلوں کو رلا دینے والا واقعہ مدتوں یاد رکھا جائے گا لیکن اس کی آڑ میں جعلی پولیس مقابلوں کی چیمپئن نون لیگ اور اپوزیشن میں بیٹھی پی پی پی کے حامی میڈیا کے کچھ حصوں کی جانب سے جو سیاسی دکان داری سجائی جا رہی ہے‘ وہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ چاہئے تو یہ تھا کہ وزارتِ اطلاعات فوری طور پر پی پی پی اور نون لیگ کے گزشتہ دس برسوں پر مبنی ادوار میں ہونے والے جعلی پولیس مقابلوں کو اپنے لوگوں کے ذریعے میڈیا پر لے کر آتی‘

لیکن نہ جانے کن وجوہ کی بنا پر یا مصلحت کے تحت ایسا نہ کیا گیا اور یہ فریضہ راقم کو ہی ”کراچی، ماڈل ٹائون اور ساہیوال‘‘ کے عنوان سے لکھے گئے اپنے کالم کے ذریعے سرانجام دینا پڑا‘ لیکن مجال ہے کہ سوائے پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کے کسی نے اس مضمون کو اہمیت دی ہو۔ ہمارے ایک دوست نے جب وزیر اعظم کے میڈیا ایڈوائزر کو یہ آرٹیکل پڑھنے کو دیا تو انہوں نے یہ کہہ کر اسے ایک جانب رکھ دیا کہ ہمیں اپنے حق میں لکھنے والوںکے نہیں بلکہ مخالفین کے آرٹیکل سے دلچسپی ہے۔ اپنے اس آرٹیکل میں‘ مَیں نون لیگ اور پی پی پی کے صرف چار برسوں میں ہونے والے مشہور جعلی پولیس مقابلے‘ دن تاریخ اور ناموں کے ساتھ ریکارڈ پر لایا تھا۔ چاہئے تو یہ تھا کہ پی پی پی اور نون لیگ کے دور حکومت کے صرف چار سالوں میں کئے گئے چھ سو سے زائد پولیس مقابلوں پر مبنی یہ تمام معلومات اور ریکارڈ ٹی وی چینلز پر تحریک انصاف اپنی حکومت کی نمائندگی کرنے والوں کو فراہم کرتی‘ لیکن وزیر اعظم کے میڈیا سیل نے اسے ردی کی ٹوکریوں میں پھینکنا ہی مناسب سمجھا۔ ساہیوال سانحہ کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال ایسے ہی ہے

جیسے ہاکی میچ کھیلتے ہوئے سینٹر فارورڈ پوزیشن پر کھیلنے والا اپنی ہی ڈی کے اندر جان بوجھ کر پائوں کو گیند لگا کر کیرڈ کر دے۔ جیسے ہی سانحہ ساہیوال ہوا حکومتی ترجمانوں کو چاہئے تھا وہ کمشنر ساہیوال، آر پی او، سپیشل برانچ اور آئی بی سے اس کی فرسٹ ہینڈ رپورٹ لینے کے بعد اس پر مشاورت کرتے ہوئے میڈیا کے سامنے آنے کا لائحہ عمل اختیار کرتے لیکن ہوا یہ کہ ان ”دانا دشمنوں‘‘ نے سی ٹی ڈی اہل کاروں کے ہاتھوں میں پکڑی ہوئی رائفلوں کے دستے تحریک انصاف کے ہاتھ میں پکڑا دیئے‘ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پہلے ہی سے عمران خان کی جان کو آئے ہوئے میڈیا نے وہ ہاہاکار مچائی کہ خدا کی پناہ۔طاہر خان داوڑ کے معاملے پر وزیر اعظم کے ترجمان افتخار درانی کا ٹی وی ٹاک شو میں دیا گیا بیان حیران کن تھا کہ طاہر خان داوڑ اغوا نہیں ہوا‘ بلکہ وہ پشاور میں اپنی فیملی کے ساتھ ہے جبکہ ایک گھنٹے بعد دنیا بھر کو معلوم ہو چکا تھا کہ انہیں افغانستان میں بد ترین تشدد کرتے ہوئے شہید کر دیا گیا ہے۔ آج مجھ سمیت بہت سے دوسرے صحافی اور قلمکار تحریکِ انصاف کا ساتھ اس لئے چھوڑنے پر مجبور ہیں کہ اگر سب کچھ ان لوگوں کے لئے ہے تو ہم نے

اپنی زندگیوں کے دس سال ان کے لئے تو ضائع نہیں کئے تھے۔ تحریکِ انصاف کے سامنے کھلا میدان ہے۔ وہ اگر کچھ کرنا چاہے تو کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں۔ یہ بھی مان لیتے ہیں کہ دوسرے ممالک سے نہایت کم مارک اپ پر آٹھ دس ارب روپے اکٹھے کرنا حکومت کا بڑا کارنامہ ہے۔ یہ بھی تسلیم کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کا جو فیصلہ کیا‘ وہی درست تھا… لیکن ان ساری پیش رفتوں اور مثبت اقدامات کے بعد کچھ ٹھوس ہوتا ہوا بھی نظر آنا چاہئے تھا۔ حتیٰ کہ عوام میں حکومت کا امیج تک بہتر نہیں ہو پا رہا‘ جبکہ وزیر اعظم ایسے لوگوں کے گھیرے میں ہیں‘ جو ان کے ہم سے زیادہ خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔تحریکِ انصاف کے سامنے کھلا میدان ہے۔ وہ اگر کچھ کرنا چاہے تو کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں۔ یہ بھی مان لیتے ہیں کہ دوسرے ممالک سے نہایت کم مارک اپ پر آٹھ دس ارب روپے اکٹھے کرنا حکومت کا بڑا کارنامہ ہے۔ یہ بھی تسلیم کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کا جو فیصلہ کیا‘ وہی درست تھا… لیکن ان ساری پیش رفتوں اور مثبت اقدامات کے بعد کچھ ٹھوس ہوتا ہوا بھی نظر آنا چاہئے تھا۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں