جرمنی میں تارکین وطن: روزگار کے مواقع بہت، تعصبات ابھی باقی

جرمنی میں اساتذہ، پولیس اہلکاروں اور ٹیکس آفس کے ملازمین سمیت عوامی شعبے میں کام کرنے والے کارکنوں کے طور پر تارکین وطن کے لیے روزگار کے بے شمار مواقع موجود ہیں اور آج ماضی کے مقابلے میں صورت حال بہت بہتر ہو چکی ہے۔

جرمنی یورپ کی سب سے بڑی معیشت ہے اور یورپی یونین کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک بھی۔ جرمنی میں پبلک سیکٹر میں بہت سے شعبے ایسے ہیں، جہاں تارکین وطن کے طور پر آنے والے اور دریں اثناء نئے جرمن شہریوں کی قانونی حیثیت حاصل کر لینے والے افراد کے لیے روزگار کے وسیع تر مواقع موجود ہیں۔

لیکن گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کافی کم تاہم ایک مسئلہ ابھی تک موجود ہے کہ تارکین وطن کے پس منظر کے حامل ایسے جرمن شہریوں کے حوالے سے معاشرے میں موجود تعصبات ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوئے۔ ان دنوں ایسی درپردہ متعصبانہ سوچ ماضی کے مقابلے میں بہت کم تو ہو چکی ہے لیکن اس کی موجودگی کی تردید ابھی تک نہیں کی جا سکتی۔

’ہم ہیمبرگ ہیں‘

’ہم ہیمبرگ ہیں۔ کیا تم بھی ہمارے ساتھ ہو؟‘‘ یہ ’آپ جناب‘ کے بجائے دوستانہ لہجے میں کہا اور لکھا جانے والا ایک ایسا نعرہ ہے، جو ان دنوں شمالی جرمنی کی شہری ریاست ہیمبرگ میں بار بار سنا اور پڑھا جا سکتا ہے۔

یہ دراصل ایک اشتہار بھی ہے، ہیمبرگ شہر کی انتظامیہ کی طرف سے۔ اس کا مقصد اس بندرگاہی شہر میں عوامی شعبے میں زیادہ سے زیادہ ایسے کارکنوں کو بھرتی کرنا ہے، جن کا تعلق تارکین وطن کے پس منظر والے گھرانوں سے ہوتا ہے۔

اس اشتہار کے ذریعے ماضی کے تارکین وطن اور ان کے ایسے بچوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جو اب جرمن شہری حقوق حاصل کر چکے ہیں۔ مقصد ایسے افراد کو یہ ترغیب دینا ہے کہ وہ ہیمبرگ میں پولیس اہلکاروں، اساتذہ، ڈاکٹروں، مسلم سماجی قونصلروں، فائر بریگیڈ کے کارکنوں، ٹیکس آفس کے اہلکاروں یا جیلوں کے نگران عملے کے طور پر سرکاری یا عوامی شعبے میں ممکنہ ملازمتوں میں دلچسپی لیں۔

بات صرف ہیمبرگ ہی کی نہیں ہے۔ ایسا جرمنی کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں دیکھنے میں آ رہا ہے کہ نجی اور پبلک سیکٹر کے آجرین اپنے نئے کارکنوں کے طور پر تارکین وطن کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ برلن میں ایسے ہی ایک سماجی پروگرام کے لیے یہ موٹو استعمال کیا جا رہا ہے، ’’تنوع بھی تربیت کا ذریعہ ہے۔‘‘

تعلیمی قابلیت میں مسلسل بہتری

جرمنی میں گزشتہ برسوں کے دوران تارکین وطن کے پس منظر والے خاندانوں کے نوجوانوں میں عمومی تعلیمی معیار کافی بہتر ہوا ہے۔ 2011ء میں ایسے نوجوانوں میں کامیابی سے ہائر سیکنڈری اسکول پاس کر لینے کی شرح 25 فیصد تھی۔ 2015ء تک 18 سے 25 برس تک کی عمر کے ایسے نوجوانوں میں ہائر سکینڈری اسکول (کالج) تک کامیابی سے تعلیم مکمل کر لینے والوں کا تناسب بڑھ کر 33 فیصد ہو چکا تھا۔

اس کے برعکس ایسے نوجوانوں میں، جن کا تعلق تارکین وطن کے پس منظر کے حامل خاندانوں سے نہیں تھا، ہائر سکینڈری اسکول تک تعلیم کا تناسب 2011ء میں 39 فیصد سے کم ہو کر 2015ء میں 32 فیصد ہو گیا تھا۔

پیشہ ورانہ تربیت میں بھی پرعزم

جہاں تک جرمنی میں تارکین وطن کے پس منظر والے شہریوں کی پیشہ ورانہ قابلیت کا تعلق ہے، تو اس میں بھی گزشتہ کئی برسوں سے مسلسل بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے۔ 2015ء میں جرمنی میں جتنے بھی افراد نے ملازمتوں کے لیے درخواستیں دیں، ان میں تارکین وطن کے گھرانوں سے تعلق رکھنے والے اور 35 برس تک کی عمر کے 38 فیصد درخواست دہندگان ایسے تھے جنہوں نے باقاعدہ طور پر کوئی نہ کوئی پیشہ ورانہ ترتبیت حاصل کر رکھی تھی۔

ایسے درخواست دہندگان میں یونیورسٹی کی سطح تک تعلیم مکمل کرنے والے افراد کا تناسب 16 فیصد تھا۔

جرمن شہر ہَیرنے کے ایک ووکیشنل کالج میں انگریزی زبان کی ترک نژاد خاتون ٹیچر جمیلہ اُورُوک نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ہم کچھ نہ کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے ہمیں اپنے والدین کی نسل کی طرف دیکھنا چاہیے۔ وہ اس لیے جرمنی نہیں آئے تھے کہ ہم کچھ بھی نہ کریں۔ ہم اتنی محنت اس لیے کرتے ہیں کہ ہم کچھ حاصل کرنا، کچھ بننا چاہتے ہیں۔‘‘

وفاقی سطح پر حوصلہ افزا اعداد و شمار

جرمنی میں عوامی شعبے میں ملازمتوں کے لیے تارکین وطن کو دستیاب روزگار کے مواقع کی صورت حال بھی ماضی کے مقابلے میں کافی بہتر ہوئی ہے۔

جرمنی میں آبادی سے متعلقہ امور پر تحقیق کرنے والے وفاقی انسٹیٹیوٹ BIB اور وفاقی دفتر شماریات کے مطابق ملک کے 24 بڑے وفاقی محکموں اور وزراتوں میں کام کرنے والے ایسے ملازمین اور اہلکاروں کی شرح 2015ء میں 15 فیصد تک پہنچ چکی تھی، جن کا تعلق تارکین وطن کے پس منظر والے گھرانوں سے تھا۔

تعصبات کی نوعیت

جرمن ماہر سماجیات اور تارکین وطن کے سماجی انضمام پر تحقیق کرنے والے محقق علاؤالدین المفالانی شامی تارکین وطن کے ایک گھرانے میں لیکن جرمنی ہی میں ہیدا ہوئے تھے۔ وہ جرمن صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے دارالحکومت ڈسلڈورف میں بچوں، خاندانوں، مہاجرین اور سماجی انضمام سے متعلقہ امور کی صوبائی وزارت میں ایک شعبے کے سربراہ ہیں۔ المفالانی ایک بہت زیادہ فروخت ہونے والی کتاب کے مصنف بھی ہیں، جس کا عنوان تھا، ’’سماجی انضمام، ایک تضاد۔‘‘

المفالانی کہتے ہیں کہ تعصبات صرف اکثریتی مقامی جرمن آبادی اور تارکین وطن کے مابین ہی نہیں پائے جاتے، بلکہ خود تارکین وطن کے مختلف سماجی اور نسلی گروپوں میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ خود اعتمادی کا فقدان، ناکافی تعلیمی قابلیت، بداعتمادی، ثقافتی فاصلے اور ذہنوں میں بہت گہری حد تک موجود کئی طرح کے تعصبات اور پہلے ہی سے قائم کر لی گئی سوچیں وہ عوامل ہیں، جو جرمنی میں معاشرتی اور روزگار کی سطح پر تارکین وطن کے بہتر انضمام کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں۔ المفالانی کے بقول سماجی سطح پر تعصب کوئی ’ون وے روڈ‘ نہیں ہوتی بلکہ ایک دوطرفہ عمل ہوتا ہے۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں