جرمن خفیہ ایجنسی کا نیا صدر دفتر

جرمنی کی خفیہ ایجنسی بی این ڈی (BND) ایک نئے اور وسیع تر صدر دفتر میں منتقل ہو گئی ہے۔ اس ادارے کا سابقہ صدر دفتر کئی برسوں سے جنوبی جرمن صوبے باویریا کے شہر پولاخ میں واقع تھا۔

جرمن خفیہ ادارے کے نئے ہیڈ کوارٹرز دارالحکومت برلن کے مرکزی حصے میں واقع ہیں۔ یہ عمارت اُس حصے میں تعمیر کی گئی ہے، جہاں سے کبھی دیوار برلن ہو کر گزرتی تھی۔ فیڈرل انفارمیشن سروس نامی خفیہ ادارے کے صدر دفتر کی اس منتقلی کو جرمن حکومت کی داخلی پالیسی میں اہم قرار دیا گیا ہے۔

جرمن خفیہ ادارے کا نیا صدر دفتر دس ہیکٹر یا پچیس ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ اس کی تعمیر پر 1.1 بلین یورو لاگت آئی۔ اس عمارت کو دنیا میں خفیہ اداروں کے بڑے مراکز میں شمار کیا جائے گا۔ اس کی افتتاحی تقریب میں وفاقی جرمن چانسلر انگیلا میرکل بھی شریک ہوئی تھیں۔

اس نئی عمارت کے سامنے والے احاطے میں ایک چٹان جیسی دھاتی شے رکھی ہے اور اس کا نام ’دا تِھنگ‘ ہے۔ اس چٹان جیسی خاص شے کے خالق ڈسلڈورف شہر کے تخلیق کار اشٹیفان زوس ہیں۔ ان کے تخلیق کردہ ایسے عظیم الجثہ فن پارے جرمنی کے مختلف شہروں میں پبلک مقامات پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

اندرونی منظر ایسی منصوبہ بندی بھی کی گئی ہے کہ جرمن خفیہ ادارے میں مہمانوں کے لیے ایک مرکز بھی قائم کیا جائے گا۔ اس مرکز کے قیام کو بھی ملکی انٹیلیجنس پالیسی میں ایک تبدیلی قرار دیا گیا ہے۔ عشروں پہلے کے جرمن معاشروں میں داخلی طور پر ’گسٹاپو‘ اور ’شٹازی‘ جیسے اداروں کی طرف سے عام شہریوں کی جاسوسی بھی کی جاتی تھی۔

جرمن خفیہ ادارے میں نیو یارک، برلن، ماسکو اور بیجنگ کے معیاری وقت بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس کا مقصد عملاً اور علامتی حوالے دونوں طرح سے وقت اور بین الاقوامی حالات پر مسلسل نگاہ رکھنا بھی ہے۔ بی این ڈی کی یہ نئی عمارت مقررہ وقت پر تعمیر نہ ہو سکی تھی۔ اس تعمیراتی منصوبے کو کبھی حادثات اور کبھی غیر ضروری عوامل کی وجہ سے تاخیر کا سامنا رہا۔ اس کی تعمیر تقریباً بارہ برس میں مکمل ہوئی۔

جرمن خفیہ ادارے کے ساڑھے چھ ہزار میں سے تقریباً چار ہزار اہلکار اس عمارت میں اپنے فرائض انجام دیں گے۔ چانسلر میرکل نے افتتاحی تقریب میں واضح کیا کہ ماضی کے مقابلے میں جرمنی کو ایک فعال، طاقتور اور قابلِ اعتماد انٹیلیجنس ادارہ درکار ہے تا کہ بین الاقوامی دہشت گردی، منظم جرائم کے عالمی ڈھانچوں اور سائبر کرائمز کے ساتھ ساتھ جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے باعث پیدا ہونے والے چیلنجز کا سامنا کیا جا سکے۔

 

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں