پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ہونے والے معاہدے کی شرائط منظر عام پر آگئیں

اسلام آباد(ویب ڈیسک ) : آئی ایم ایف نے پاکستان کے سامنے اپنی شرائط پیش کر دیں ،شرائط منظر عام پر آگئیں۔آئی ایم ایف ذرائع کے مطابق پاکستان کو کہا جا رہا ہے کہ قرض واپس کرنے کی وسط مدتی صلاحیت میں اضافہ کرے۔پاکستان ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کو سرکاری کنٹرول سے باہر رکھے۔پاکستان ٹیکس وصولیوں کے لیے طریقہ کار طے کرکے عملدرآمد کروائے۔

تفصیلات کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف سے پاکستانی وفد کے دبئی میں مذاکرات ہوئے ۔ ان مذاکرات میں 5 نکاتی فارمولے پر اتفاق ہوگیا۔وزیر اعظم عمران خان نے بھی کل آئی ایم ایف کی سربراہ سے ملاقات کی ہے جس کے بعد پاکستان اور آئی ایم ایف میں معاہد طے پا جانے کا قومی امکان ہے۔آج پشاور چیمبر آف کامرس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ دبئی میں آئی ایم ایف کی سربراہ کی وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کے بعد اچھا معاہدہ ہونے کی امید ہے.انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف نے اپنی پوزیشن بدل لی ہے اور ہم ان سے معاہدے کے بہت قریب پہنچ گئے ہیں‘ ہماری کوشش ہے کہ اس کو آخری معاہدہ بنائیں لیکن یہ آخری معاہدہ اسی وقت بنے گا جب ہم تجارت بڑھائیں اور آپ کا کاروبار بڑھے گا اور آپ ترقی کریں گے.دوسری جانب ائی ایم ایف کی جانب سے پیش کی جانے والی شرائط بھی منظر عام پر آ گئی ہیں۔

آئی ایم ایف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پاکستان قرض واپس کرنے کی وسط مدتی صلاحیت میں اضافہ کرے۔پاکستان ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کو سرکاری کنٹرول سے باہر رکھے۔پاکستان ٹیکس وصولیوں کے لیے طریقہ کار طے کرکے عملدرآمد کروائے۔آئی ایم ایف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پاکستان گیس اور بجلی کی کمپنیوں کا خسارہ پورا کرنے کے لیے انکی قیمت میں اضافہ کرے۔پی آئی اے اور پاکستان ریلوے سمیت 193 پبلک سیکٹر کمپنیوں کا خسارہ کم کیا جائے۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں