حکومت نے حج پالیسی 2019 کا اعلان کردیا

وزارت مذہبی امور نے حج پالیسی 2019 جاری کر دی جس کے مطابق رواں برس سعودی حکومت نے 5 ہزار اضافی عازمین کی اجازت دی ہے جس کے بعد ایک لاکھ 84 ہزار 210 پاکستانی حج ادا کرنے جاسکیں گے، سرکاری سکیم کے تحت حج درخواستیں 25 فروری سے 6 مارچ تک وصول کی جائیں گی۔

وزارت مذہبی امور کا کہنا ہے کہ سرکاری حج سکیم کی قرعہ اندازی 8 مارچ کو ہوگی۔

وزارت مذہبی امور کی جانب سے جاری دستاویزات کے مطابق سعودی حکومت نے 5 ہزار افراد کا اضافی کوٹہ دیا ہے اس لیے رواں برس ایک لاکھ 79 ہزار 210 کے بجائے ایک لاکھ 84 ہزار 210 عازمین حج کرنے جائیں گے۔

دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ رواں برس سرکاری حج سکیم کیلئے 60 فیصد اور نجی حج سکیم کے لیے 40 فیصد کوٹہ مختص کر دیا گیا ہے، سرکاری سکیم کے تحت ایک لاکھ 7 ہزار 526 اور نجی سکیم کے تحت 71 ہزار 684 عازمین حج کے لیے جائیں گے۔

سعودی حکومت کی جانب سے دئیے گئے اضافی کوٹے کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ 5 ہزار کا اضافی کوٹہ نجی نئی رجسٹرڈ، نان کوٹہ ہولڈرز کمپنیوں کو دیا جائے گا۔

مفت حج کا کسی کو موقع نہ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ شمالی ریجن کے لیے 4 لاکھ 36 ہزار 975 روپے کا پیکیج ہوگا جس میں اسلام آباد، پشاور، لاہور، سیالکوٹ، ملتان اور رحیم یار خان شامل ہیں۔ وزارت مذہبی امور کے مطابق حج کوٹہ کے لیے جنوبی ریجن میں کوئٹہ، کراچی اور سکھر شامل ہیں جس کے لیے 4 لاکھ 26 ہزار 975 روپے کا پیکیج ہوگا۔

نئی حج پالیسی کے تحت 15 ستمبر 2017 کے بعد پیدا ہونے والے بچوں کو بھی شامل کیا گیا ہے جس کے تحت بچوں کا شمالی حج پیکیج 12 ہزار 910 روپے اور جنوبی حج پیکیج 11 ہزار 910 روپے ہوگا۔

حج کے دوران قربانی کے اخراجات کو اختیاری رکھا گیا ہے جس کے لیے 19 ہزار 451 روپے الگ ہوں گے جبکہ 80 سال سے زائد افراد کے لیے بمعہ محرم 10 ہزار کا کوٹہ مختص کردیا گیا جس کے لیے درخواستیں 10 ہزار سے زائد موصول ہونے پر انتخاب سنیارٹی کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

وزارت مذہبی امور نے گزشتہ 3 سال سے مسلسل ناکام درخواست گزاروں کے لیے 10 ہزار کا کوٹہ مختص کیا ہے جن کا انتخاب قرعہ اندازی کے ذریعے ہوگا اور ناکام درخواست گزاروں کو عمومی قرعہ اندازی میں بھی شامل کر کے کامیاب ہونے کا ایک اور موقع دیا جائے گا۔

نئی پالیسی کے مطابق 2014 سے 2018 کے دوران حج کرنے والے حاجی رواں سال دوبارہ حج ادا کرنے کے لیے اہل نہیں ہوں گے جبکہ عازمین کو پی آئی اے، سعودی ایئر لائن اور ایئربلیو کے ذریعے حجاز مقدس روانہ کیا جائے گا۔

روڈ ٹو مکہ منصوبے کے تحت ابتدائی طور پر کراچی میں حاجیوں کی امیگریشن کراچی ایئرپورٹ پر ہی کرلی جائے گی اور یہ تجربہ کامیاب ہونے کی صورت میں اگلے برس دیگر ایئر پورٹس پر بھی یہ سہولت دی جائے گی۔

سعودی حکومت سے تمام حجاج کیلئے ای ویزا حاصل کرنے کے لئے رابطہ کیا جائیگا۔ امسال بھی سرکاری سکیم کے عازمین میں سے 50 فیصد کو پاکستان سے براہ راست مدینہ منورہ پہنچایا جائیگا۔

پہلے مدینہ منورہ جانے والوں کی واپسی جدہ سے جبکہ پہلے مکہ مکرمہ جانیوالوں کی واپسی مدینہ منورہ سے ہوگی۔

تمام حجاج کرام کو مخصوص پیکنگ میں 5 لٹر آب زم زم ایئرپورٹس پر فراہم کیا جائیگا جبکہ ایئر لائنز سے آب زم زم کی مقدار بڑھانے کیلئے بات چیت جاری ہے۔

رواں برس حجاج کرام کو مکہ مکرمہ میں عزیزیہ بطحہ قریش میں ٹھہرایا جائیگا۔ حجاج کرام کو حرم پاک لے جانے اور واپس رہائش گاہوں تک لانے کیلئے 24 گھنٹے ٹرانسپورٹ کی سہولت بلا معاوضہ فراہم کی جائے گی۔ سرکاری سکیم کے حجاج کو دوران قیام مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، (مشائر) منیٰ، عرفات میں پاکستانی ذائقے کے مطابق تین وقت کا کھانا دیا جائے گا۔

کھانے کے اخراجات موجودہ حج پیکیج سے ہی ادا کئے جائیں گے، رواں سال گلگت میں عارضی حاجی کیمپ بنایا جائے گا اور گلگت سے عازمین حج کو بسوں کے ذریعے سرکاری خرچ پر اسلام آباد ایئرپورٹ لایا جائیگا جبکہ گلگت بلتستان، بلوچستان اور صوبہ خیبرپختونخوا کے دور افتادہ اضلاع سکردو، تربت، خضدار، چترال اور مظفر آباد کے عازمین حج کی سہولت کیلئے بائیو میٹرک ویری فکیشن کا بندوبست کیا جائیگا۔ حج درخواست جمع کرانے کیلئے بین الاقوامی مشین ریڈ ایبل کمپیوٹرائزڈ پاسپورٹ، قومی شناختی کارڈ اور میڈیکل سرٹیفکیٹ لازمی ہے۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں