یہ ہوتے ہیں پروٹوکول اور ایسے ہوتی ہے خاص لوگوں کی حفاظت : محمد بن سلمان کی پاکستان آمد سے قبل حفاظتی انتظامات ، کیا خاص چیز اسلام آباد پہنچا دی گئی ؟

اسلام آباد(ویب ڈیسک) سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ایشیا کے 5ممالک کےدورے کے پہلے مرحلے میں سب سے پہلے 16فروری کو پاکستا ن آرہے ہیں جس کے بعد وہ چین، ملائیشیا ، بھارت اور انڈونیشیا کے دورے پر بھی جائیں گے ۔ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن

سلمان کی پاکستان آمد کی تیاریاں اسلام آباد میں وسیع پیمانے پر شروع کردی گئی ہیں۔ سعودی ولی عہد کی آمدکے پیش نظرسکیورٹی وفداورضروری سامان پاکستان پہنچا دیا گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان معزز مہمان کا استقبال کرنے کیلئے اپنے رفقاء کے ہمراہ خود ائیرپورٹ پر موجود ہونگے۔ جن کی دعوت پر وہ پاکستان کے اولین دورے پر اسلام آباد آرہے ہیں۔ پاکستان میں متعین سعودی سفیر نے باضابطہ طور پر اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان 16 فروری کو پاکستان پہنچ رہے ہیں اُن کی آمد سے قبل اُن کا ضروری سامان بھی پاکستان پہنچنا شروع ہوگیا ہے ۔

مہمان شخصیت کے ہمراہ بڑا وفد بھی پاکستان آرہا ہے جس میں اعلیٰ حکومتی شخصیات ، کاروباری اداروں کے سربراہان اور سرمایہ کار بھی شامل ہیں۔ سعودی ولی عہد اور دیگر مہمانانِ گرامی جو ان کے وفد کا حصہ ہونگے،کی سکیورٹی کیلئے انتہائی غیرمعمولی اقدامات کیے جارہے ہیں۔ سعودی ولی عہد کے ہمراہ آنے والے وفود کی سکیورٹی کے لیے فول پروف انتظامات کیے جارہے ہیں جبکہ وزارت داخلہ، وزارت خارجہ تمام سکیورٹی امور کو دیکھ رہے ہیں۔

معزز مہمانان کی آمد سے 24گھنٹے قبل وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو جدید ترین سکیورٹی کے حصار میں دے دیا جائے گا۔ جہاں سکیورٹی فورسز کے مختلف اداروں کے اہلکار اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد بن سلمان کی آمد کی پیش نظروفاقی دارالحکومت میں واقع پنجاب ہاؤس اور اسلام آباد کے 2 بڑے ہوٹل مکمل طور پر جبکہ 2 جزوی طور پر بک کر لیے گئے ہیں۔ شہزادہ محمد بن سلمان کی سکیورٹی ٹیم نے اسلام آباد کے مختلف مقامات کا دورہ کیا اور سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا ہے۔ شہزادہ محمد بن سلمان کے ڈاکٹرز کی ٹیم اور ان کے دورے کی کوریج کیلئے سعودی میڈیا کا وفد بھی پاکستان پہنچ گیا ہے۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں