- Advertisement -

عدالتی اصلاحات کیلئے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے قیام کی قرارداد منظور

- Advertisement -

قومی اسمبلی نے عدالتی اصلاحات کے لیے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے قیام کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی۔
عدالتی اصلاحات کے لیے پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کے لیے قرارداد پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان میں پیش کی۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف نے سپریم کورٹ کی جانب سے پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ مسترد کرنے کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ عدالتی فیصلے سے حصول انصاف کے لیے توقعات کو دھچکا لگا ہے۔
جبکہ وفاقی حکومت میں شامل تمام جماعتوں نے فل کورٹ تشکیل دینے کی درخواستیں مسترد ہونے پر چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا تھا۔
حکومتی اتحاد کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت، وزیراعظم اور پارلیمنٹ کو تجویز دی تھی کہ عدالتی اصلاحات کے حوالے سے ازسرنو قانون سازی کی جائے۔
قراردار میں بتایا گیا ہے کہ قوانین کی منظوری اور آئین میں ترمیم صرف پارلیمنٹ کا حق ہے، آئین انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ کے درمیان اختیارات تقسیم کرتا ہے۔
مزید کہا گیا کہ ریاست کا کوئی بھی ستون ایک دوسرے کے اختیارات میں مداخلت نہیں کر سکتا۔
جبکہ آرٹیکل 175 اے کے تحت اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کے تقرر کی توثیق بھی پارلیمنٹ کا اختیار ہے۔
مزید بتایا گیا کہ پارلیمنٹ عوامی امنگوں کی نمائندہ ہے، اور پارلیمنٹ کسی ادارے کو اپنے اختیارات سے تجاوز کی اجازت نہیں دے گی۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا ادھر سے ادھر ہو جائے، ہم پاکستان کو عظیم تر بنائیں گے، ہم عمران خان کی فسطائیت کا مقابلہ کریں گے لیکن جھکیں گے نہیں، جو ذمہ داری مجھے ملی ہے، جب تک پارٹی قائد اور اتحادی جماعتوں کے قائدین کا اعتماد ہے، میں اپنی کوششیں کرتا رہوں گا۔
اسپیکر راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ان طوفانی بارشوں نے ہر جگہ تباہی پھیلائی، بلوچستان، خیبر پختونخوا، پنجاب، چترال، کراچی اور سندھ کے دوسرے علاقوں میں بے پناہ انسانی جانوں کا ضیاع ہوا اور بے پناہ نقصانات ہوئے، اللہ سے دعا ہے کہ جانے والوں کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور زخمیوں کو جلد سے جلد صحت عطا فرمائے۔
انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے وفاقی حکومت چوکنا ہے، اس صورتحال کے حوالے سے چاروں صوبوں کے ساتھ اجلاس کر چکا ہوں، جہاں لوگ زخمی ہیں اور لوگ اللہ کو پیارے ہوئے اور جہاں مالی نقصانات ہوئے، وہاں پر صوبائی حکومتیں پوری طرح دن رات کام کر رہی ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ وفاق نے بھی اپنا بھرپور حصہ ڈالا ہے، نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے ذریعے امدادی کارروائیوں میں بھرپور طریقے سے وفاقی حکومت شریک ہے، نقصان زیادہ ہے، جو لوگ اللہ کو پیارے ہو گئے ان کے لیے کسی بھی حد تک مالی تعاون سے ان کے دل کی تسلی نہیں ہوسکتی۔
انہوں نے کہا کہ میں ایوان کو یقین دلاتا ہوں کہ وفاقی حکومت قطعاً کسی بھی طرح پیچھے نہیں رہے گی، جو ہم نے امدادی پیکیج کا اعلان کیا ہے اس میں مزید اضافہ کریں گے، کل ہی ایک اور اجلاس بلایا ہے، جس میں متعلقہ اراکین قومی اسمبلی، متعلقہ ادارے اور سرکاری افسران شامل ہوں گے، تمام معزز اراکین کو یقین دلاتا ہوں کہ ان کی سفارشات کے پیش نظر کر ہم مزید فیصلے کریں گے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کسانوں کو جو نقصان ہوا ہے، اس حوالے سے بھی بھرپور کردار ادا کریں گے، وفاقی حکومت، صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر جو کچھ کرسکتی ہے وہ کریں گے، پورے پاکستان میں جہاں پر بھی نقصانات ہیں ان کا مداوا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ انسانی فطرت ہے کہ جب بچے کو تکلیف ہوتی ہے تو ماں بچے کی طرف دوڑتی ہے اور بچہ ماں کی طرف آتا ہے، یہ معزز ایوان پاکستان کے آئین کی ماں ہے، 1973 کا متفقہ آئین ہے، جس میں پورے پاکستان کی منتخب لیڈرشپ شامل تھی، اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی لیڈرشپ میں پاکستان بھر سے منتخب اراکین نے بڑی عرق ریزی کے ساتھ اس آئین کی تشکیل کی، یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ یہ آئین پاکستان کی وحدت کی بہت بڑی نشانی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بدترین وقتوں میں بھی اسی آئین نے پوری دنیا کے سامنے مضبوط و متحد ملک کے طور پر پیش کیا، یہی آئین صدیوں تک پاکستان کی رہنمائی کرتا رہے گا، پاکستان کو مضبوط کرتا رہے گا۔
وزیر اعظم نے کہ حاکمیت اللہ تعالیٰ کی ہے، وہی مالک اور خالق ہے اس نے جو اختیار انسانوں کو دیا ہے اور 22 کروڑ عوام نے اس منتخب ایوان کو دیا ہے، یہ وہ اختیار ہے جسے مقدس امانت جان کر یہ ایوان اس کو استعمال کرتا ہے، مقننہ، عدلیہ، انتظامیہ ہو، آئین نے ان کے اختیارات متعین کر دیے ہیں، آئین بتاتا ہے کہ اپنے دائرے میں رہ کر پاکستان کی خدمت کرنی ہے اور پاکستان کو آگے بڑھانا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 75 سال گزرنے کے باوجود آئین کے ساتھ کھلواڑ ہوتا رہا، ملک میں ایک سے زائد بار مارشل لا آئے، جو کئی دہائیوں تک ملک پر مسلط رہے، جس کے نتیجے میں پاکستان دولخت ہوا، اور جمہوریت کا پودا اتنا طاقتور نہ ہوسکا جتنا ہونا چاہیے تھا، پارلیمان کی طاقت اس طرح ابھر کر سامنے نہ آسکی جس طرح اس کو آنا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا کہ قرب و جوار میں نظر دوڑائیں تو وہ ممالک جو بہت پیچھے تھے، آج ترقی کی دوڑ میں وہ آگے نکل چکے ہیں، اغیار نے آئی ایم ایف کو کبھی کا خیرباد کہہ دیا، غربت اور بیروزگاری کو انہوں نے دفن کردیا۔
ان کا کہنا تھا کہ سب جانتے ہیں کہ 2018 کے انتخابات پاکستان کی تاریخ میں بدترین جھرلو الیکشن تھے، ایک ایسی حکومت کو مسلط ہو گئی جو صریحاً دھاندلی کی پیداوار تھی، اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ کس طرح رات کے اندھیرے میں آر ٹی ایس سسٹم بند ہوگیا اور کس طرح نتائج وہ دیہاتوں میں پہلے آگئے اور شہروں میں کئی کئی دن نتائج نہیں آئے، امیدواروں کا جو حق تھا اس کو سابق چیف جسٹس کے حکم پر گنتی کو رکوایا گیا، وقت پر گنتی نہ ہوئی۔