جاپانی ’سوئمنگ کوئین‘ ریکاکو ایکی کا مقابلہ اب خون کے سرطان سے

جاپان میں ’پیراکی کی ملکہ‘ ریکاکو ایکی کو اگلے سال کے ٹوکیو اولمپکس کے ایک پوسٹر کے لیے منتخب کر لیا گیا ہے۔ کئی تمغے جیتنے والی اس نوجوان کھلاڑی نے حال ہی میں انکشاف کیا تھا کہ وہ خون کے سرطان میں مبتلا ہیں۔

ریکاکو پیراکی کے بین الاقوامی مقابلوں میں سونے کے چھ اور چاندی کے دو تمغے جیت چکی ہیں۔ انہو‌‌ں نے اپنی ایک حالیہ ٹویٹ میں لکھا تھا، ’’میں کچھ دنوں سے اپنی صحت اچھی محسوس نہیں کر رہی تھی۔ میں فوری طور پر آسٹریلیا سے واپس آئی، اپنے میڈیکل ٹیسٹ کرائے تو مجھے معلوم ہوا کہ مجھے لیوکیمیا (خون کا سرطان) ہے۔ مجھے ابھی تک یقین نہیں آ رہا۔ میں شدید الجھن کا شکار ہوں۔‘‘

اس وقت اٹھارہ سالہ ریکاکو ایکی نے ایک کھلاڑی کے طور پر شہرت کی بلندیوں کو پچھلے سال اس وقت چھوا تھا، جب ایشین گیمز میں انہوں نے چین کی معروف پیراک سَن پنگ کو ہرا کر ہر کسی کو حیران کر دیا تھا۔ ان ایشیائی مقابلوں میں ریکاکو نے مجموعی طور پر سونے کے چھ اور چاندی کے دو میڈل جیتے تھے۔

اس سے قبل ایشین گیمز کے کسی بھی مقابلوں میں اتنے زیادہ تمغے جیتنے کا یہ اعزاز شمالی کوریا کی نشانہ باز سو جن من کے پاس تھا، جو انہوں نے 1982ء میں حاصل کیا تھا۔ اپنی بیماری سے متعلق ٹویٹ میں ریکاکو ایکی نے مزید لکھا، ’’میں ہمت نہیں ہاروں گی۔ اپنی اس بیماری کے خلاف جنگ کروں گی۔‘‘

2018ء میں انڈونیشی دارالحکومت جکارتہ میں ہونے والی ایشین گیمز میں اپنی شاندار کارکردگی کے بعد ریکاکو ایکی نے کہا تھا کہ وہ ٹوکیو اولمپکس میں بھی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے سلسلے میں دباؤ میں ضرور ہیں، تاہم وہ اس وجہ سے پریشان نہیں ہیں۔‘‘ تب انہوں نے یہ بھی کہا تھا، ’’میرے لیے دباؤ تحریک کا باعث ہوتا ہے۔ ٹوکیو اولمکپس کے دوران بہت سے جاپانی، اور ہو سکتا ہے کہ غیر ملکی مداح ہوں، ایسے ہوں جو میرے لیے تالیاں بجائیں گے اور میری ہمت بڑھائیں گے۔ یہ چیز بھی مجھے طاقت دے گی۔‘‘

جاپانی دارالحکومت ٹوکیو ریکاکو کا آبائی شہر بھی ہے۔ جکارتہ میں انہوں نے کہا تھا، ’’جتنے زیادہ مداح ہوتے ہیں، میں خود کو اتنا ہی مضبوط محسوس کرتی ہوں۔ جہاں تک تیراکی کی بات ہے، تو مجھے ہار جانے سے نفرت ہے۔‘‘

یہ بات بالکل غیر واضح ہے کہ آیا ریکاکو ایکی آئندہ تیراکی کے کسی بھی مقابلے، خاص طور پر ٹوکیو اولمپکس میں حصہ لے سکیں گی۔ فی الحال ان کا صرف یہ کہنا ہے، ’’میں اب اپنے علاج پر پوری توجہ دوں گی اور کوشش کروں گی کہ مستقبل میں پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ریکاکو ایکی بن کر دنیا کے سامنے آؤں۔‘‘

اے ایف پی

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں