’’دنیا میں وہ کون سی جگہ ہے، جہاں آغاز سے لے کر قیامت تک صرف ایک دفعہ سورج کی کرنیں پڑیں نہ پہلے کبھی وہاں پڑیں تھیں نہ آئندہ کبھی پڑیں گی؟‘‘

ایک دفعہ ایک عیسائی بادشاہ نے چند سوالات لکھ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجے اور ان کے جوابات آسمانی کتابوں کی رُو سے دینے کا مطالبہ کیا. ان میں سے ایک سوال تھا کہ ’’دنیا میں وہ کون سی جگہ ہے، جہاں آغاز سے لے کر قیامت تک صرف ایک دفعہ سورج کی کرنیں پڑیں، نہ پہلے کبھی وہاں پڑیں تھیں نہ آئندہ کبھی پڑیں گی؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو فرمایا کہ ان سوالات کے جوابات لکھ دیں.

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس سوال کا جواب تحریر فرمایا. ’’وہ زمین سمندر کی کھاڑی قلزم کی تہہ ہے کہ جہاں فرعون مردود غرق ہوا تھا. حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزے سے دریا خشک ہوا تھا. حکم الٰہی سے سورج نے بہت جلد سکھایا. حضرت موسیٰ علیہ السلام مع اپنی قوم بنی اسرائیل پار چلے گئے اور جب فرعون اور اس کا لشکر داخل ہوا تو وہ غرق ہوگیا اس زمین پر سورج ایک دفعہ لگا پھر قیامت تک کبھی بھی نہیں لگے گا.

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں