- Advertisement -

اتحادی حکومت کا مطالبہ ہے کہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ فوری سنایا جائے: رانا ثنا اللہ

- Advertisement -

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے کا قوم 8 سال سے انتظار کر رہی ہے۔ 50 بار فارن فنڈنگ کیس کی سماعت ملتوی کی گئی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ فارن فنڈنگ کیس کا فی الفور فیصلہ کیا جائے کیونکہ 5 سال سے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ نہیں ہو رہا۔ 50 بار فارن فنڈنگ کیس کی سماعت ملتوی کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اس کیس سے بچنے کے لیے 9 رٹ پٹیشن دائر کیں۔ فیصلہ محفوظ ہو گیا ہے جسے سنانے میں الیکشن کمیشن کو کونسی رکاوٹ ہے؟ وفاقی کابینہ اجلاس میں بھی فارن فنڈنگ کیس کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا گیا اور اتحادی حکومت کا بھی مطالبہ ہے کہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ فوری سنایا جائے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عمران خان کو بیرون ملک سے ممنوعہ فنڈنگ کی گئی جبکہ براہ راست ان کمپنیوں کا تعلق بھارت اور اسرائیل سے ہے۔ ساڑھے 7 سو ملین ڈالر وہ ہیں جو پکڑے گئے ہیں اور ان کے اپنے لوگ ہیں جنہوں نے اکاؤنٹ کھولنے کی اجازت دی۔
انہوں نے کہا کہ 350 اکاؤنٹس سے ان کے 4 ملازمین کے اکاؤنٹ میں پیسے آئے اور تم نے جو لوٹ مار کی ہے اس کا حساب دینے کے لیے تم تیار نہیں۔ تمہارے ارد گرد چور ڈاکو بیٹھے ہیں اور تم مخالفین کو ہر وقت گالیاں دیتے ہو۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم نے ڈھائی کروڑ کے قریب ووٹ لیے اور ہم نے مشکل فیصلے کیے ہیں۔ عمران خان معاہدہ کر کے گئے تھے جس کی وجہ سے پیٹرول کی قیمتیں بڑھی ہیں، مہنگائی اور بجلی کی قیمتیں بڑھنے کی وجہ پچھلی حکومت ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے معاہدے پر ان کے وزیر خزانہ شوکت ترین کے دستخط ہیں، یہ ہم سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ الیکشن کے لیے حکومت کو ختم کیا جائے جبکہ چیف الیکشن کمشنر آئینی طریقے سے لگا اور آئینی طریقے سے ہی جائے گا۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ فارن فنڈنگ کے فیصلہ کا قوم 8 سال سے انتظار کر رہی ہے جبکہ ماڈل ٹاون کا فیصلہ ہو چکا ہے اور ہم پر لگائے گئے الزامات ثابت نہیں ہوئے۔ پنجاب گورنمنٹ بنی نہیں تھی عمران خان دھمکیاں دے رہے تھے۔ ادارے آزاد ہیں، انکوائری کریں جو قصوروار ہیں انہیں سزادی جائے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو کسی کو گرفتار کرنے یا کرانے کا اختیار نہیں ہے بلکہ گرفتاری کا اختیار نیب اور ایف آئی اے کے پاس ہے۔ ہمارے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے گئے اور اگر الیکشن کرانے ہیں تو پہلے اپنی 2 حکومتیں ختم کرو۔ پنجاب حکومت کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔