نواز شریف کا راستہ صاف۔۔۔اُڑان بھرنے کی تیاریاں مکمل!

اسلام آباد (ویب ڈیسک) : سابق وزیراعظم نواز شریف نے جب سے العزیزیہ ریفرنس میں سزا کے خلاف درخواست ضمانت دائر کی تب ہی سابق وزیراعظم نواز شریف کے این آر او حاصل کرنے کے حوالے سے ایک نئی بحث کا آغاز بھی ہو گیا تھا۔قیاس آرائیاں ہیں کہ شاید این آر او ہونے جا رہا ہے۔ لیکن حکومت کے کئی نمائندوں نے بارہا این آر او دینے کی خبروں کی سختی سے تردید کی جبکہ وزیراعظم عمران خان نے بھی اپنے بیانات میں واضح کہا کہ کسی صورت کسی بھی شخص کو این آر او فراہم نہیں کیا جائے گا۔

دوسری جانب مسلم لیگ ن کے رہنماؤں اور خود مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے بھی این آر او سے متعلق تمام خبروں کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دے دیا اور کہا کہ ہم نے کسی قسم کے این آر او کا مطالبہ نہیں کیا۔

تاہم اب حال ہی میں حکومت کے نمائندوں کے بیانات نے نئی قیاس آرائیوں کو جنم دے دیا ہے۔ نواز شریف کی طبیعت خرابی اور ان کے طبی معائنے کے لیے تشکیل دئے جانے والے چوتھے بینچ نے انہیں بیرون ملک علاج کے لیے بھیجنے کی تجویز پیش کی جس کے بعد حکومت کے کئی رہنماؤں نے بیانات دئے کہ اگر نواز شریف علاج کی غرض سے بیرون ملک چلے گئے تو لوگ اسے این آر او سمجھیں گے۔

حکومتی وزیروں اور رہنماؤں کے ان بیانات کو سُن کر ایسا لگتاہے کہ خود حکومت نے ہی سابق وزیراعظم نواز شریف کو این آر او کی پیشکش کر دی ہے۔ یہ بات تو ہر کسی کے علم میں ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کا طبی کیس، ان کے دل کی بائی پاس سرجری اور دیگر علاج لندن میں ہی ہوا تھا اسی لیے ان کا ماہر امراض قلب یا کارڈیک سرجن بھی لندن میں ہی موجود ہے اور نواز شریف کا ان سے طبی معائنہ کروانا بے حد ضروری ہے کیونکہ وہ نواز شریف کی میڈیکل ہسٹری کو بخوبی جانتے ہیں۔

احتساب عدالت نے 24 دسمبر 2018ء کو العزیزیہ اسٹیل مل ریفرنس میں نوازشریف کو قید کے علاوہ تقریباََ ایک ارب 50 کروڑ روپے کا جرمانہ اور جائیداد ضبطگی کا فیصلہ سنایا تھا جب کہ فلیگ شپ ریفرنس میں انہیں بری کردیا گیا تھا۔ عدالت نے تفصیلی فیصلے میں حکم دیا تھا کہ ہل میٹل کی آمدن سے بننے والے تمام اثاثے اور جائیداد وفاقی حکومت قرق کرے۔ نواز شریف نے سزا کے خلاف درخواست ضمانت دائر کی تو ایک قیاس آرائی نے جنم لیا کہ شاید نواز شریف این آر او چاہتے ہیں۔
حکومتی وزرا بشمول وزیراعظم عمران خان نے بھی اپنے کئی بیانات میں یہ تاثر دیا کہ ن لیگ نواز شریف کے لیے این آر او کے حصول کی خواہشمند ہےاور چاہتی ہے کہ این آر او کے تحت ہی نواز شریف کو علاج کے لیے لندن بھیجا جائے لیکن مسلم لیگ ن کے ذرائع اور خود سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھی اس تاثر کی تردید کی ہے اور برملا کہا ہے کہ ہم نے کسی قسم کے این آر کا مطالبہ نہیں کیا۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں