- Advertisement -

حالیہ مون سون بارشوں کے باعث ملک بھر میں 300 سے زائد اموات

- Advertisement -

نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ ایک اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں مون سون کی بارشوں اور ان کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے 310 افراد جاں بحق اور 295 زخمی ہوئے جبکہ املاک کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
کراچی سمیت سندھ کے دیگر اضلاع میں مون سون بارشوں کا ہلکا اور تیز سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کی وجہ سے ایک بار پھر متعدد علاقوں میں سڑکیں زیرآب ہیں۔ وزیراعظم نے سندھ کے وزیراعلی سید مراد علی شاہ کے نام اپنے پیغام میں یقین دلایا ہے کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومت کو کسی بھی مشکل صورت حال میں ہرممکن معاونت فراہم کرے گی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں 30 جولائی سے ایک اور سسٹم اثر انداز ہوسکتا ہے۔
بلوچستان میں اس سال مون سون بارشوں سے سب سے زیادہ تباہی ہوئی ہے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق یکم جون سے اب تک بلوچستان میں موسلادھار بارشوں میں 134 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ 29 جولائی کی صبح موصول اطلاعات کے مطابق لسبیلہ میں 6، کوئٹہ میں 5 ، اور ژوب میں 2 ، کان مہتزئی میں 3 اور چاغی میں ایک شخص جاں بحق ہوا ہے۔
طوفانی بارشوں نے راجن پور میں بھی تباہی مچا دی ہے، جہاں رود کوہی میں سیلابی ریلوں نے سیکڑوں دیہات ڈبو دیئے، جب کہ مختلف مقامات پر بند ٹوٹنے سے سیلابی پانی مختلف بستیوں اور گھروں میں داخل ہوگیا۔ متاثرین کی امداد کیلئے ریسکیو ٹیمیں متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مصروف ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹی فیکیشن میں ضلع کو آفت زدہ قرار دیا گیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فوجی دستے ڈیرہ غازی خان میں سیلاب کے باعث امدادی سرگرمیوں میں سول انتظامیہ کی مدد کر رہے ہیں۔ پاک فوج نے کہا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ مقامی لوگوں کو طبی دیکھ بھال فراہم کرنے کے لیے فوج نے دو میڈیکل کیمپ قائم کیے ہیں۔ علاوہ ازیں ڈیرہ غازی خان میں منگل کی رات دیر گئے پہاڑوں سے آنے والے سیلاب کے بہاؤ نے ایک حفاظتی بند کو توڑا جس سے 6 دیہاتی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔
جنوبی وزیرستان میں سیلابی ریلوں نے ٹانک میں تباہی مچادی، جہاں مختلف حادثات میں دوافراد جاں بحق جب کہ پانچ زخمی ہوگئے۔ سیلابی ریلوں کے باعث 3 گاؤں صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ دریائے کابل میں سیلاب کے باعث پانی کئی گھروں میں داخل ہوگیا۔ ریسکیو 1122 کے مطابق اس کے اہلکاروں نے پشاور میں فیز سکس، الحرم ٹاؤن، حیات آباد، ملک سعد پل، گگہ والہ، اسمبلی ہال روڈ اور پولیس لائن روڈ سمیت مختلف مقامات میں ہیوی مشینری کے ذریعے گھروں اور پلازوں میں کھڑے پانی کو نکالا۔
وزیر اعظم کي زير صدارت حالیہ بارشوں اور سیلاب کے دوران نقصان کے جائزے کیلئے اجلاس ہوا، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ نقصان کا تعین کرنے کے لیے وفاقی وزرا پر مشتمل کمیٹی آئندہ 4 دنوں میں متاثرہ علاقوں کا دورہ کرے گی، جب کہ 4 اگست کو کمیٹی کی سفارشات پر جامع پلان تشکیل دیا جائے گا۔