- Advertisement -

وزیراعلیٰ سندھ نااہلی کیس؛ مراد علی شاہ کی لارجر بینچ تشکیل دینے کی استدعا

- Advertisement -

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے خلاف نظرثانی درخواست کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے بینچ سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ موجودہ تین ججوں پر مشتمل بینچ کی جگہ ایک لارجر بینچ تشکیل دے۔
چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال، جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل بینچ روشن علی بریریو کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 62(1)(ایف) کے تحت دوہری شہریت اور اقامہ یا ورک پرمٹ رکھنے پر مراد علی شاہ کی نااہلی کے لیے دائر نظرثانی کی درخواست پر سماعت کرے گا، روشن علی بریریو دراصل مراد علی شاہ کے سیاسی حریف ہیں۔
23 جنوری 2019 کو عدالت عظمیٰ نے ریٹرننگ آفیسر کے 6 اپریل 2013 کے مراد علی شاہ کو نااہل قرار دیے جانے کے حکم پر سوال اٹھاتے ہوئے درخواست یہ کہہ کر مسترد کر دی تھی کہ ریٹرننگ آفیسر عدالت نہیں ہے۔
پیر کو وزیر اعلیٰ کی جانب سے ایک درخواست دائر کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ بینچ میں شامل ایک جج الیکشن ٹربیونل کا رکن تھا جسے کیس سننے کے بجائے خود کو بینچ سے الگ کر لینا چاہیے۔
مراد علی شاہ کی درخواست میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ جسٹس یحییٰ آفریدی اس بینچ کے رکن تھے جس نے 23 جنوری 2019 میں اصل درخواست کو مسترد کر دیا تھا، اب عدالت نظرثانی درخواست کے ذریعے اس پر غور کر رہی ہے۔
اس میں کہا گیا کہ جسٹس یحییٰ آفریدی موجودہ بینچ کے رکن نہیں تھے اس لیے یہ سمجھا جائے کہ نظرثانی درخواست کی سماعت کے لیے بینچ کی تشکیل درست طریقے سے نہیں کی گئی، ان کا مؤقف ہے کہ جسٹس آفریدی کی عدم موجودگی میں نظرثانی درخواست کو آگے نہیں بڑھانا چاہیے۔
درخواست کے مطابق یہ سپریم کورٹ کے رولز کے آرڈر 26، رول 8 کا تقاضا ہے کہ جہاں تک قابل عمل ہو، نظرثانی کی درخواست اسی بینچ کے سامنے طے کی جائے جس نے پہلے نظرثانی درخواست پر فیصلہ سنایا تھا۔
مراد علی شاہ نے استدعا کی کہ چونکہ جسٹس یحییٰ آفریدی بدستور سپریم کورٹ کے جج ہیں اور بینچ کے رکن بننے کے لیے دستیاب ہیں، اس لیے انہیں بینچ میں شامل کیا جانا چاہیے۔
درخواست میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے 2021 کے فیصلے کا بھی حوالہ دیا گیا جس میں عدالت عظمیٰ نے کہا تھا کہ نظرثانی بینچ کی تشکیل میں چیف جسٹس کو چاہیے کہ اگر ممکن ہو تو آرڈر 26 رول 8 کی خاطر خواہ تعمیل کو یقینی بناتے ہوئے نظرثانی بینچ میں فیصلہ تحریر کرنے والے بینچ کو شامل کرے لیکن جہاں ایسا کرنا قابل عمل نہیں تھا وہاں بینچ میں بالکل انہیں ججوں کا ہونا ضروری نہیں ہے۔
درخواست گزار نے عدالت کو یہ بھی یاد دلایا کہ ان کی طرف سے لارجر بینچ کی تشکیل کے لیے ایک علیحدہ درخواست پہلے ہی زیر التوا ہے، اس معاملے کے حالات اور اہمیت کے پیش نظر یہ واضح ہے کہ ایک بڑا بینچ تشکیل دیا جانا چاہیے۔
اصل درخواست میں روشن علی بریرو نے استدعا کی تھی کہ مراد علی شاہ مبینہ طور پر صادق اور امین نہیں ہیں اس لیے انھیں تاحیات اس بنیاد پر نااہل قرار دیا جائے کہ انہیں پہلے دوہری شہریت کے لیے نااہل قرار دیا گیا تھا۔
درخواست میں استدعا کی گئی کہ مراد علی شاہ کینیڈین شہری ہیں اور ان کے کاغذات نامزدگی کو ریٹرننگ آفیسر نے دوہری شہریت رکھنے کی وجہ سے مسترد کر دیا ہے اور انہوں نے کہا تھا کہ مراد علی شاہ صادق اور امین نہیں ہیں۔
تاہم، عدالت عظمیٰ نے ریٹرننگ آفیسر کے بطور عدالت کام کرنے پر سوال اٹھاتے ہوئے مزید کہا کہ مراد علی شاہ نے 29 ستمبر 2012 کو اپنی شہریت ترک کرنے کے لیے درخواست دی تھی اور 18 جولائی 2013 کو کینیڈین حکام سے اپنی شہریت کی منسوخی کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا تھا۔