- Advertisement -

بلوچستان میں طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلوں سے مزید 15 افراد جاں بحق

- Advertisement -

بلوچستان میں طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلوں سے مرنے والوں کی تعداد میں مزید 15 کا اضافہ ہوگیا، کئی اضلاع میں موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری رہا جس سے مکانات تباہ اور انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا۔
حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ ہلاکتیں ژوب، قلعہ سیف اللہ، کوہلو، نوشکی اور لسبیلہ میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والی بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہونے سے ہوئیں۔
ژوب میں ایک شخص اور اس کا بیٹا موسمی نالے کو عبور کرنے کی کوشش کے دوران سیلابی ریلے میں بہہ گئے، مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ غوطہ خوروں نے دونوں کی لاشیں نکال لیں۔
 
ندی نالوں کے قریبی علاقوں میں موسلادھار بارش سے آواران کے مختلف علاقوں میں طغیانی آگئی جب کہ سڑکوں اور پلوں کو نقصان پہنچنے سے ضلع کا دیگر علاقوں سے رابطہ بدستور منقطع ہے۔
اس کے علاوہ آواران کے قصبوں ماشکی اور گجر میں پھنسے ہوئے لوگوں کو خوراک کی کمی کا سامنا ہے کیونکہ امدادی سامان ابھی تک علاقے تک نہیں پہنچ سکا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جھل مگسی، گنداواہ اور جعفرآباد کا وسیع علاقہ زیر آب آ گیا ہے، دریائے لہری اور دیگر ندی نالوں میں تاحال شدید طغیانی جاری ہے جس سے ان علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشنز میں مشکلات کا سامنا ہے۔
ڈیرہ بگٹی اور کوہلو میں پہاڑیوں پر مسلسل بارش سے پانی کی روایتی گزرگاہوں میں طغیانی آرہی ہے جس سے نصیر آباد کے نشیبی علاقوں میں میں بسنے والے افراد کو خطرہ ہے۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے منگل کے روز بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے ایک ہزار راشن بیگ روانہ کیے۔
ایک بیان میں این ڈی ایم اے کے ترجمان نے کہا کہ امدادی سامان کنگ سلمان ہیومینٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سنٹر کی جانب سے فراہم کیا گیا تھا جسے جعفرآباد، نصیر آباد، صحبت پور، سبی اور کچھ کے ڈپٹی کمشنرز کے حوالے کیا گیا، ان بوریوں میں آٹا، دالیں، چینی اور گھی ہوتا ہے۔