- Advertisement -

تائیوان کی تازہ صورتحال پر گہری تشویش ہے: دفترخارجہ

- Advertisement -

دفترخارجہ کے ترجمان عاصم افتخار نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان کو آبنائے تائیوان کی تازہ صورتحال پر گہری تشویش ہے۔
پاکستان نے چین کی ”ون چائنہ پالیسی ” اور اس کی خودمختاری اور علاقائی سا لمیت کی حمایت کے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔ دفترخارجہ کے ترجمان عاصم افتخار نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان کو آبنائے تائیوان کی تازہ صورتحال پر گہری تشویش ہے، جس کے خطے کی امن و سلامتی کے لئے سنگین اثرات ہونگے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا یوکرین کے بحران کی وجہ سے پہلے ہی سلامتی کی پیچیدہ صورتحال سے گزر رہی ہے، جس کے عالمی غذائی اور توانائی کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ دنیا ایک اور ایسے بحران کی متحمل نہیں ہو سکتی جو عالمی امن و سلامتی اور معیشت پر منفی اثرات مرتب کرے، انہوں نے کہا کہ پاکستان اس بات پر پختہ یقین رکھتا ہے کہ ریاستوں کے درمیان تعلقات باہمی احترام اور داخلی عدم مداخلت کی بنیاد پر ہونے چاہئیں اور مسائل کو اقوام متحدہ کے منشور، عالمی قانون اور دوطرفہ معاہدوں کے اصولوں کی بنیاد پر پرامن طریقے سے حل کیا جانا چاہئے۔
واضح رہیں اس وقت امریکی سپیکر نینسی پلوسی تائیوان کے دورے پر ہے جس کی وجہ سے امریکا اور چین کے درمیان شدید کشیدگی پیدا ہوا ہے۔
عالمی میڈیا کے مطابق ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی کے تائیوان کی پارلیمنٹ سے خطاب کے بعد بیجنگ میں امریکی سفیر کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔
چین کے نائب وزیر خارجہ زی فینگ نے خبردار کیا کہ نینسی پلوسی کے دورہ تائیوان کے نتائج سنگین ہوں گے اورچین خاموش نہیں بیٹھے گا۔انہوں نے نینسی پلوسی کے دورے کو شیطانی قراردیا۔
چین کی وزارت خارجہ نے نینسی پیلوسی کے دورہ تائیوان کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ایک چین اصول کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پلوسی کا دورہ چین کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی ہے جس کا شدید اثر چین امریکا تعلقات کی سیاسی بنیاد پرپڑے گا۔
دوسری جانب روس نے چین کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ نینسی پلوسی کا دورہ اشتعال انگیزی ہے۔ چین کو اپنی خود مختاری کے تحفظ کے لئے کارروائی کا حق حاصل ہے۔
چین تائیوان کو اپنا حصہ سمجھتا ہے جبکہ تائیوان اپنے آپ کو خود مختار ریاست قرار دیتا ہے۔