- Advertisement -

کسی کو الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج کی اجازت نہیں دینگے، وزیر داخلہ

- Advertisement -

حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج کی اجازت نہ دینے کا اعلان کر دیا۔
وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ریڈ زون میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اگر کسی نے زبردستی ریڈ زون میں داخل ہونے کی کوشش کی تو قانون حرکت میں آئے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہم 4 سال ان کی انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنے اور رپورٹس کے مطابق پی ٹی آئی کے احتجاج میں کشیدگی ہو سکتی ہے اس لیے اگر کسی نے قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش کی تو اس کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد عمران خان بیرونی ایجنٹ ثابت ہو چکے ہیں اور عمران خان نے پاکستانی سیاست کو خراب کرنے کے لیے بیرونی فنڈنگ لی کیونکہ ان سے پہلے مخالفین ایک دوسرے کی عزت کرتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی احتجاج کے نام پر انتشار پھیلانا چاہتی ہے اور کل پر امن احتجاج ایچ نائن یا ایف نائن پارک میں کریں۔ عمران خان نے ملک میں اوئے کا کلچر متعارف کرایا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ کل کابینہ اجلاس میں اتحادی حکومت اہم فیصلے کرے گی اور الیکشن کمیشن کے فیصلے میں مختلف کریمنل سرگرمیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن کا فیصلہ بڑا جامع ہے اور فیصلے کی روشنی میں جائزہ لے رہے ہیں کہ یہ کس کس ادارے کا دائرہ اختیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ کابینہ چاہے تو پی ٹی آئی کو فارن فنڈڈ پارٹی قرار دے سکتی ہے کیونکہ قانون ہے کہ بیرونی فنڈنگ لینے والی جماعت فارن فنڈڈ پارٹی ڈکلیئر ہو گی اور اسلام آباد پولیس بھی مقدمہ درج کر سکتی ہے تاہم اس معاملے پر ہمیں کوئی جلدی نہیں ہے۔ تمام قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے کر فیصلے کریں گے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ انکوائری میں مزید افراد کو بھی شامل کیا جائے گا لیکن ان کے گول گپے اور چپڑاسیوں کا جواب کون دے گا۔ فرح گوگی اور القادر ٹرسٹ کی پراپرٹی کا کوئی جواب نہیں ہے اور اگر کسی کا نام ای سی ایل میں ڈالنا پڑا تو وہ ڈالیں گے۔ وقت کے ساتھ ساتھ معاملات آگے بڑھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ امن و امان کی ذمہ دار صوبائی حکومتیں ہیں اور امن و امان کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کر چکا ہوں۔ پی ٹی آئی کے مطابق فیصلے میں کچھ نہیں تو احتجاج کیوں کر رہے ہیں۔ پہلے انہوں نے فیصلہ حق میں ہونے کا بیانیہ بنانے کی کوشش کی پھر فیصلہ پڑھتے گئے تو انہیں سمجھ آئی کہ فیصلہ ان کے خلاف ہے۔