بھارت میں سوال اٹھانے والوں کوغدار کہا جاتاہے ، بھارتی صحافی راجدیپ سردیسائی کا اعتراف

نئی دہلی ( آن لائن)بھارتی صحافی راجدیب سردیسائی نے کہاہے کہ پاکستان میں بھارت کی ایئرسٹرائیک پر بی جے پی کے کچھ لیڈر وں نے کہاہے کہ سیٹیں بڑھیں گی لیکن مودی نے یہ نہیں کہا ، ان کا کہنا تھا کہ سوال اٹھانا تو سب کا حق ہے اور اپوزیشن پارٹیاں ان سے یہ سوال کررہی ہیں ، یہ ایک بیانیہ چل رہاہے کہ جو سوال پوچھتے ہیں وہ غدار ہیں۔

جیونیوز کے پروگرام ”نیا پاکستان“ میں گفتگو کرتے ہوئے راجدیب سردیسائی نے کہا کہ پاکستان میں بھارت کی ایئرسٹرائیک پر بی جے پی کے کچھ لیڈر وں نے کہاہے کہ سیٹیں بڑھیں گی لیکن مودی نے یہ نہیں کہا ، ان کا کہنا تھا کہ سوال اٹھانا تو سب کا حق ہے اور اپوزیشن پارٹیاں ان سے یہ سوال کررہی ہیں ، یہ ایک بیانیہ چل رہاہے کہ جو سوال پوچھتے ہیں وہ غدار ہیں ، یہ پاکستان اور ہندوستان میں نہیں ہوناچاہئے ، یہ ایک سیاسی پولرائزیشن چل رہی ہے ، اگر آپ دوست ہیں تو ٹھیک، نہیں تو غدار ہیں ، یہ نہیں ہونا چاہئے ۔

راجدیب نے کہاکہ نریندر مودی پلوامہ سے پہلے بھی بہت مقبول لیڈر تھے اور اب بھی ہیں، بھارتی حکومت کہہ رہی ہے کہ پاکستان میں ہونیوالے حملے میں ہونیوالی ہلاکتوں کے ہمارے پاس فوٹو گراف ہیں جو لائے جائیں گے ، آخر میں ایک بات تو طے ہے کہ بمباری ہوئی ہے ، اس سے پاکستان کی حکومت بھی انکار نہیں کررہی، میں ہمیشہ کہتاہوں کہ ہمیں جنگ کی باتوں سے ہٹنا چاہئے ، جنگ سے کبھی فائدہ نہیں ہوتا ، اینکر پاکستانی ہو یا بھارتی ہمیں انسانیت کومد نظر رکھتے ہوئے اینکری کرنی چاہئے ، ایک نیا پاکستان اور ایک نیا انڈیا بناناہے تو ہمیں دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرنی ہوگی ۔ہم اگر ایک دوسرے پر الزام لگاتے رہے تو آگے نہیں بڑھیں گے ،کشمیر کے حوالے سے سوال پر راجدیب نے کہاہے کہ جس او آئی سی نے کشمیر پر قرارداد پاس کی اسی او آئی سی میں بھارتی وزیر خارجہ کو بطور چیف گیسٹ بلایا گیا ، یہ بھارت کے لئے بہت بڑی بات تھی ، کشمیر میں جہادی طاقتوں نے حالات کا فائدہ اٹھایا ہے ، کشمیر پر بات ضرور ہونی چاہئے اور اس کے ساتھ ساتھ دہشتگردی پربھی ہونی چاہئے ۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں