- Advertisement -

مزید قرض لینا مشکل ہوگیا ہے اور شرم بھی آتی ہے: وزیر خزانہ

- Advertisement -

وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے چیمبرآف کامرس سےخطاب میں کہا ہے کہ دنیا سے قرض لینا مشکل بھی ہوگیا اور شرم بھی آتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ہم نے 450 ملین ڈالرواپس نہیں کیے تو دینے والے سے مزید مانگتے ہوئے شرم آتی ہے، 1996سے آج تک 450 ملین ڈالر واپس نہیں کرسکے، آئی ایم ایف کی فنڈنگ سے متعلق کافی پیشرفت کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ 80 ارب ڈالر کی درآمدات اور 30ارب کی برآمدات ہوئیں، معیشت کی بہتری کیلئے لگژری اشیاکی درآمدپرپابندی لگائی، ماضی میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھتارہا، ہم گروتھ کرتے ہیں پھر برسٹ ہو جاتے ہیں، ہم ایکسپورٹ نہیں کر پا رہے، دنیا بھرمیں شرح سود میں اضافہ ہوگیا۔
مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ 42 ارب کا ہمارا ٹیکس ہدف تھا۔اب 42 ارب سے پیچھے ہٹ گئے ہیں، لیکن ٹیکس تو جمع کرنا ہے تاکہ یہ ملک چلتا رہے، اب 33 ارب کا ٹیکس جمع کرنا ہوگا۔
ان کا کہنا ہے کہ ڈیمانڈ اور سپلائی کی وجہ سےڈالر کی قئمت میں اتار چڑھاؤ آتا ہے، حکومتی کوششوں سے ڈالر نیچے آیا، بیرونی ادائیگیوں سے توازن خراب ہو گیا تھا، خسارہ کم کرنے کے لیے خریداری کم کر رہا ہوں۔
انہوں نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات بھی پاکستان میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ایل سیزکھول دی گئی ہیں۔آج تک کوئی ادائیگی روکی نہ ہی روکیں گے۔