مسلمانوں کی تابوت میں تدفین جائز ہے یا نہیں؟اگر جائز ہے تو کن صورتوں میں؟ مفتی منیب الرحمان نے اہم شرعی مسئلے کی تشریح کر ڈالی

کراچی (ویب ڈیسک) اکثر اوقات مرحومین کی تدفین کے لئے تابوت استعمال کیے جاتے ہیں اور ہر کوئی اس حوالے سے جاننا چاہتا ہے کہ تابوت میں مسلمان کی تدفین جائز ہے یا نہیں۔تفصیلات کے مطابق کئی مرتبہ مرحومین کی تدفین تابوت میں کی جاتی ہے اور طبی طور پر جان دینے

والوں میں سے اکثر کی تابوت کے بغیر ہی تدفین کردی جاتی ہے اور جب یہی سوال نجی روزنامے کے سلسلے میں مفتی منیب الرحمان کے سامنے رکھا گیا تو انہوں نے اس پر روشنی ڈالی۔انہوں نے لکھا کہ فقہائے کرام نے ذکر کیا ہے،اگر فوت ہونے والا شخص مرد ہو تو بلاعذر اُسے تابوت سمیت دفن کرنا مکروہ ہے اور اگر میت عورت ہے تو اُسے تابوت کے ساتھ دفن کرنا افضل ہے۔علامہ علاء الدین حصکفی فرماتے ہیں:ترجمہ: ضرورت وحاجت کے وقت مرد میت کے لیے تابوت بنانے میں حرج نہیں ہے۔ خواہ وہ پتھر کا ہو یا لوہے کا،حاجت سے مراد جیسے زمین کا نرم ہونا۔

اسی طرح اگر زمین میں پانی ہے یا میت کے اعضاء کسی حادثے کے سبب منتشر ہیں،تو اُسے تابوت میں دفن کیا جاسکتا ہے۔علامہ ابن عابدین فرماتے ہیں:ترجمہ:لیکن اگر قبر کی چھت ہو اور اس کے اوپر بھی کوئی تعمیر ہو جیسے ہمارے علاقے کی قبریں ہوتی ہیں اور زمین میں نمی نہ ہو اور لحد نہ بنائی ہوئی ہو تو تابوت میں دفن کرنا مکروہ ہے۔نیز فرماتے ہیں:ترجمہ:اور عورت کو مطلقا تابوت میں دفن کیا جاسکتا ہے اور منیۃ المصلی کی شرح میں اس کی تصریح کی گئی ہے اور محیط میں ہے:ہمارے مشایخ نے عورتوں کو تابوت میں دفن کرنے کو مستحسن قرار دیا ہے،یعنی اگر زمین نرم بھی نہ ہو ،کیونکہ یہ ستر اور قبر میں رکھتے وقت میت کو چھونے سے اجتناب کا ذریعہ ہے،(ردالمحتار،ج:2،ص:235۔اور اگر خدانخواستہ کسی حادثے یا بارش کی کثرت یا اچانک قبرکھودے جانے کے سبب میت ظاہر ہوجائے،تو ستر قائم رہے گا۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں