دوستی کا ہاتھ بڑھاؤ گے تو ہاتھ تھامیں گے اور جنگ کا مکا دکھاؤ گے تو مکا توڑ دیں گے، شاہ محمود قریشی

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیراعظم ہمیں سفارتی طور پر کمزور کرنا چاہتا ہے، آنے والے دنوں میں امتحان آنے ہیں تاہم ہم پراعتمام طریقے سے آگے بڑھ رہے ہیں۔

ملتان میں  تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ابھی امتحان جاری ہے اور امتحان ختم نہیں ہوا، بھارت سارک کو یرغمال بنا چکا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ‘ہم بھانپ گئے تھے کہ مودی الیکشن سے پہلے کوئی نا کوئی حرکت کرے گا، دوستی کا ہاتھ بڑھاؤ گے تو ہاتھ تھامیں گے اور جنگ کا مکا دکھاؤ گے تو مکا توڑ دیں گے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘مقبوضہ کشمیر میں جنازے اٹھ رہے ہیں جنہیں پاکستانی پرچم میں لپیٹا جاتا ہے، پہلی بار او آئی سی اجلاس میں کشمیر میں مظالم کو ریاستی دہشت گردی کہا گیا، جو حالات کشمیر میں ہورہے ہیں، اگر میں بھارت کا وزیر خارجہ ہوتا تو مجھے رات کو نیند نا آتی’۔

وزیر خآرجہ کا کہنا تھا کہ روس اور بھارت کے تعلقات کسی سے پوشیدہ نہیں لیکن آج روس کے ساتھ ہمارے تعلقات میں بہتری آرہی ہے، پلوامہ معاملے پر روس نے پاکستان پر نکتہ چینی نہیں کی بلکہ کہا کہ وہ کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دور حکومت میں پاکستان کا نام گرے لسٹ میں شامل ہوا اور معاشی اعتبار سے پاکستان دیوالیہ ہونے کے قریب تھا۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن اور استحکام کی کرن نظر آ رہی ہے اور ناامیدی میں امید کی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے، پاکستان افغانستان میں امن چاہتا ہے اور اس کا سب سے زیادہ فائدہ ہمیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ہمشیہ کہا کہ افغان مسئلہ مذاکرات سے حل ہوگا اور ان کے اس بیان پر انہیں طالبان خان کا طعنہ دیا گیا تاہم آج عمران خان کے مؤقف کو تسلیم کیا گیا، آج امریکا، افغانستان دوحا میں مذاکرات کر رہے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سعودی عرب اور عرب امارات نے سالوں بعد پاکستان میں توجہ دینی شروع کی اور اربوں ڈالرز کے منصوبوں کے معاہدے کیے جب کہ حالیہ مسائل میں سعودی عرب نے کھل کر پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے، سعودی عرب ہمارا دوست اور محسن ملک ہے، مشرقی وسطی سے بے شمار پاکستانی روزگار حاصل کرتے ہیں اور ہماری معیشت کا پہیہ چلتا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امریکا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بہتر ہونا پاکستان کے مفاد میں ہے، صدر ٹرمپ نے بھی امن میں ہماری کوششوں کو تسلیم کیا ہے۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں