ملک عراق کا نام تو آپ نے بہت سنا ہوگا لیکن کیا آپ کو معلوم ہے لفظ عراق کا مطلب کیا ہے؟ جانئے

بغداد(مانیٹرنگ ڈیسک) مشرق وسطیٰ کے ملک عراق کا نام تو آپ نے بہت سن رکھا ہو گا لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ’عراق‘ کے معنی کیا ہیں؟ یقینا اکثریت اس سے نابلد ہو گی۔ وکی پیڈیا کے مطابق دراصل عراق ایک قدیم ترین شہر ’عروق‘ (Uruk)سے ماخوذ ہے۔ عروق سمر(Sumer) تہذہب کا ایک نمایاں شہر تھا جو بعدازاں بیبلونیا(Babylonia) تہذیب کا بھی حصہ رہا۔ یہ شہر دریائے فرات کے مشرقی کنارے پر آباد تھا، تاہم بعدازاں دریائے فرات نے راستہ بدل لیا اور آج یہ جگہ دریا سے کافی فاصلے پر موجود ہے۔ عروق شہر کا سمر تہذیب کی شہر کاری(شہر بسانے کے عمل) میں نمایاں کردار تھا۔ یہ شہر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد سے ہزاروں سال پہلے قائم ہوا اور 2900قبل مسیح میں اپنے عروج پر تھا۔

اس وقت اس شہر کے چاروں طرف دیوار تھی اور اس دیوار کے اندر 50ہزار سے 80ہزار نفوس پر مشتمل آبادی قیام پذیر تھی۔ اس دیوار سے محفوظ کیے گئے شہر کا احاطہ 6مربع کلومیٹر کے لگ بھگ تھا۔ چنانچہ یہ شہر اس وقت دنیا کا سب سے بڑا شہر تھا۔ 27ویں صدی قبل مسیح میں سمریان سلطنت کے بادشاہ اس پر حکومت کرتے رہے۔ اس شہر کا عروج 2000قبل مسیح میں اس وقت ختم ہواجب بیبلونیا سلطنت نے ایلم سلطنت کے خلاف مزاحمت شروع کی۔ آہستہ آہستہ یہ شہر غیرآباد ہوتا چلا گیا اور 312سے 63قبل مسیح کے دوران یہ مکمل غیرآباد ہو گیا۔ اب لفظ عروق کے معنی کی طرف آتے ہیں، عراق جس سے ماخوذ ہے۔قدیم سمرین (Sumerian)زبان عروق کے معنی ’شہر، قصبے، گاﺅں یا ڈسٹرکٹ‘ کے ہیں۔انگریز ماہر آثار قدیمہ ویلیم کینیٹ لوفٹس نے 1850ءاور 1854ءکے دوران اس جگہ پر کھدائی کی اور اپنی تحقیق میں اس شہر کو نمرود کی سلطنت کا سب سے بڑا شہر قرار دیا تھا۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں