ارے خان جی: اگر وہ جیل میں مر گیا تو جانتے ہو کیا ہو گا ۔۔۔۔؟ سہیل وڑائچ نے جینوئن صحافی کا کردار ادا کرتے ہوئے عمران خان کو وارننگ کے ساتھ ایسا مشورہ دے دیا کہ وزیراعظم انہیں اپنا مشیر مقرر کرنے کا سوچنے لگیں گے

لاہور (ویب ڈیسک) موت ایک اٹل حقیقت ہے جس سے کسی کو مفر نہیں، کسی نے آج تو کسی نے کل جانا ہے، میں سوچتا ہوں کہ اگر وہ جیل میں مرگیا تو کیا ہوگا؟ ظاہر ہے کہ نہ ہمالہ روئے گا اور نہ وہ قومی اعزاز کیساتھ دفن ہوگا مگر قوم کی زخمی روح کو

نامور کالم نگار سہیل وڑائچ اپنے تازہ ترین کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ ایک گھائو اور ضرور لگے گا، بھٹو کو جیل میں سزائے موت ملی تو اس قومی جرم کا خراج 9سال کی وفاقی حکومت اور 20سال کی سندھ حکومت میں ابھی تک ادا کیا جارہا ہے مگر خون کے دھبے مٹ نہیں پارہے، وہ نپولین بونا پورٹ نہیں ہے کہ جیل میں بیماریوں کا علاج نہ ہونے پر پراسرار موت مرا تو فرانسیسی قوم کو اس وقت تک چین نہ ملا جب کئی دہائیوں بعد تک اس کو پیرس میں لاکر دفن نہ کیا گیا۔ برصغیر کے آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر رنگون میں جلا وطنی اور نظر بندی کے دوران مرگئے ، کہاجاتا ہے کہ ایک وجہ زہر خورانی بھی تھی۔ نہ فرانس میں نپولین کی موت آج تک تاریخ کے صفحات سے غائب ہوئی ہے اور نہ بہادر شاہ کا المناک سانحہ برصغیر کے لوگوں کے ذہنوں سے ابھی تک محو ہوا ہے۔ وہ بھی جیل میں مرا تو مرے گا نہیں، قتل ہوگا اور سیاسی قتل اس شخص کو زندہ رکھتے ہیں۔ بھٹو اور بینظیر قتل ہو کر کیا مرگئے؟ وہ آج تک زندہ ہیں اور آئندہ بھی جو اس طریقے سے مارا جائے گا وہ سیاسی شہید ہی ٹھہرے گا۔عدالتی فیصلے نے سقراط کو مجرم قرار دیا اور قوم کے ذہن بگاڑنے پر زہر کا پیالہ پینے کی سزا دی۔ بھٹو کو عدالتی فیصلے نے قاتل قرار دیتے ہوے پھانسی پر لٹکا دیا۔ بینظیر بھٹو کو ایک عدالت نے نااہل قرار دے دیا، جائیداد ضبط کرلی اور تو اور

آصف زرداری 9سال جیل میں رہے مگر بعد میں ملک کے صدر بن گئے، اسی طرح سقراط، بھٹو اور بینظیر کے خلاف فیصلوںکو کبھی عوامی پذیرائی نہیں ملی، تاریخ نے ان فیصلوں کو مسترد کردیا۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ اگر وہ جیل میں مرگیا تو اس کے خلاف کئے گئے عدالتی فیصلے بھی پرزے پرزے ہو کر اڑیں گے یا پھر ان کا اثر برقرار رہے گا، تاریخ کا سبق تویہی ہے کہ عوام اور سیاست کا رخ ان فیصلوں سے اسے مبرا قرار دیدے گا۔ وہ اب جارحانہ سیاست نہیں کررہا وہ اندر سے ٹوٹ چکا ہے، اس کی نصف صدی کی ساتھی وفادار بیوی ساتھ چھوڑ کر جاچکی۔ پارٹی مزاحمت کے بیانیے کی حد تک تو اس کے ساتھ ہے مگر عملی مزاحمت اور جیل جانے تک تیار نہیں۔ بزنس مڈل کلاس میں اس کے حامی ووٹر، ووٹ تو اسی کو ڈالیں گے، مگر اس کے لئے اپنا جان و مال خطرے میں ڈالنے کے لئے تیار نہیں۔ ان حالات میں اس نے جیل کے اندر مدافعانہ مزاحمت شروع کر رکھی ہے، وہ حرفِ شکایت زبان پر نہیں لاتا، بیماریوں کا علاج کروانے کو تیار نہیں، اسپتال شفٹ ہونے کو تیار نہیں، وہ حکومت کی مرضی کی ڈیل کرنے کو بھی تیار نہیں۔ وہ ہمیشہ سے ضدی تھا اب بھی ضدی ہے، وہ خاموش تو ہوگیا ہے مگر موقف بدلنے کو تیار نہیں، وہ جارحیت نہیں کررہا مگر وہ سرنڈر کرنے کو بھی تیار نہیں۔ وہ تاحال جیت نہیں سکا مگر وہ شکست بھی تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنی تقدیر پر شاکر ہے

اور بار بار آسمان کی طرف دیکھ کر توقع کرتا ہے کہ تاریخ کا پہیہ کب اپنا چکر پورا کرے گا۔ کیا وہ واقعہ اس کی موت سے پہلے ہوگا یا بعد میں؟جیل آدھی موت ہے۔ نوع انسانی نے صدیوں کی سوچ و بچار کے بعد، پھانسی کے بعد جو سخت ترین سزا مقرر کی ہے وہ جیل بھیجنا ہے ، کوئی اگر یہ کہے کہ جیل میرا سسرال ہے تو وہ جھوٹا ہے۔ جیل سوائے خوفناک مجرموں کے ہر ایک کو بدل دیتی ہے۔ نفسیاتی طور پر اور جسمانی طور پر انسان پر بہت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس پر بھی ہر روز قیامت گزرتی ہوگی ایک درجن بیماریاں، بڑھاپا اور پھر بار بار ضمیر سے اٹھتا یہ سوال، کیا میں اتنا ہی برا تھا جو مجھ سے یہ سلوک کیا جارہا ہے؟ تین بار وزیر اعظم بننے والا اس خطے کا سب سے سینئر سیاستدان کال کوٹھری میں بند ہے اور ہر طرف ہُو کا عالم ہے، کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ بیمار ہوا تو ہسپتال لے جا کر پھر واپس بھیج دیا۔ لازماً دل پر آرے چلتے ہوں گے ایسے میں وہ مدافعانہ مزاحمت نہ کرے تو کیا کرے؟وہ اکیلا ہوتا ہوگا تو سوچتا ہوگا، خلا میں گھورتا ہوگا، بائوجی کی کلثوم کو یاد کرتا ہوگا، آنکھیں بھیگ جاتی ہوں گی، سیاست کی جدوجہد میں ذاتی رشتے اور ذاتی جذبات قربان کرنا پڑتے ہیں مگر یہ کیسے ممکن ہے کہ ان قربانیوں کے گہرے زخم روح کو چھلنی نہ کرتے ہوں؟ یہ سب کچھ اس پر گزرتا ہوگا مگر وہ سب کچھ برداشت کرتا ہوگا۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں