گرفتاری کا خدشہ۔۔۔آصف زرداری نے پیپلز پارٹی کو بچانے کیلئے بڑی قربانی دیدی

کراچی (ویب ڈیسک) : سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری کی گرفتاری کے خدشے کے پیش نظر اب بلاول بھٹو زرداری کو سیاسی میدان میں مکمل طور پر اُتارنے کا فیصلہ کر لیا۔ آصف علی زرداری کو بیک فٹ پر لے جانے اور بلاول بھٹو کو فرنٹ فٹ پر لانے کے لیے پارٹی کے ناراض رہنماؤں کو بھی منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

بلاول کے ذریعے دوبارہ سندھ کارڈ کھیلنے اور ن لیگ کے ساتھ معاملات مزید بہتر کرنے پر بھی کام شروع ہوگیا۔ پیپلز پارٹی کے مصدقہ ذرائع کے مطابق پارٹی کے اہم رہنماؤں نے آصف علی زرداری کی بجائے بلاول بھٹو کو فرنٹ پر لانے اور ان کے ذریعے پارٹی کو بالخصوص پنجاب میں دوبارہ فعال کرنے کے حوالے سے نہ صرف کام شروع کر دیا گیا ہے بلکہ بلاول کی گذشتہ روز کی پریس کانفرنس ، میاں نوازشریف سے جیل میں ملاقات اور پنجاب میں اہم رہنما ؤں سے ملاقات اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔

قومی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق بلاول بھٹو اگلے چند دنوں میں مزید سیاسی شخصیات سے نہ صرف ملاقاتیں کریں گے بلکہ آئندہ 48 گھنٹوں میں میاں نوازشریف کے حوالے سے مریم نواز سے رابطہ جبکہ ن لیگی اہم رہنماؤں سے ان کی ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔ پیپلز پارٹی کے اندر ایک بڑے گروپ کا نہ صرف یہ مطالبہ تھا بلکہ اس حوالے سے کئی اہم رہنما ناراض بھی تھے کہ ان کی بات پر غور نہیں کیا جارہا ، وہ یہی تھا کہ اگر بلاول کو فرنٹ پر لایا جاتا ہے تو پیپلز پارٹی نہ صرف بہتر پرفارمنس کرے گی۔

بلاول بھٹو کے آنے سے پنجاب کے اندر بہت سے ناراض رہنما دوبارہ پارٹی کے ساتھ بھی آجائیں گے اور پنجاب میں آئندہ انتخابات میں پوزیشن بہتر ہوسکے گی ۔ پیپلز پارٹی کے اندر چند ایسے رہنما جنہوں نے ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں مفاہمت کروانے میں کردار ادا کیا تھا ان کا بھی یہی خیال تھا کہ اگر بلاول کو سامنے لایا جاتا ہے تو پارٹی کو دو فائدے ہوں گے ۔

آصف زرداری کی ممکنہ گرفتاری کے پیش نظر وقت سے پہلے پارٹی کی کمان بلاول کے ہاتھ میں آجائے گی اور پارٹی کے اندر گروہ بندی اور بغاوت کا خدشہ ختم ہو جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف زرداری بھی سیاست میں رہیں گے لیکن پیپلز پارٹی کے اندر اب اہم کردار بلاول ہی ادا کریں گے ۔ بلاول کو اسی لئے بھی متحرک کیا گیا ہے کہ سندھ کے اندر پیپلز پارٹی میں واضح طور پر گروہ بندی شروع ہوگئی ہے اور اس میں برملا فریال تالپور کا نام لیا جارہا تھا اور ایک گروپ اس پر سخت ناراض بھی تھا جس نے باقاعدہ بلاول سے اس کا اظہار بھی کیا تھا ۔

بلاول بھٹو کے فرنٹ فٹ پر کھیلنے کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے ایک اہم رہنما کا کہنا ہے کہ وہ ایک تیر سے تین شکار کر رہے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کی اکثریت بھی بلاول بھٹو کے فرنٹ فٹ پر کھیلنے پر خوش اور مطمئن ہے اور چاہتی ہےکہ پارٹی کی کمان مکمل طور پر بلاول بھٹو ہی سنبھال لیں ۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں