کرائسٹ چرچ میں ’دہشت گردی‘: دو مساجد پر حملوں میں ہلاک افراد کی تعداد 49 ہوگئی

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دو دہشتگرد حملوں میں 49 افراد ہلاک اور 20 سے زیادہ لوگ شدید زخمی ہوئے ہیں۔

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جاسنڈا آرڈرن نے مسجد پر فائرنگ کے واقعے کو دہشتگردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نیوزی لینڈ کی تاریخ کے سیاہ ترین دنوں قرار دیا۔

پولیس نے ایک شخص جس کی عمر بیس کے پیٹے میں بتائی جاتی ہے، اس پر قتل کا الزام عائد کیا ہے اور اسے کل عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

پولیس کمیشنر مائیک بُش کے مطابق تین اور افراد میں ایک عورت بھی شامل ہے جن کے قبضے سے اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد ملا، کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

پولیس کمشنر نے بتایا حراست میں لیے جانے والے تین افراد میں سے ایک کو رہا کر دیا گیا کہ جبکہ باقی سے پوچھ گچھ ہو رہی ہے۔

پولیس کمیشنر مائیک بُش کے مطابق حملے ڈین ایوینیو پر واقع مسجد النور اور لِن ووڈ مسجد میں پیش آئے۔

حملہ آور کون تھا؟
حملہ آور جس نے سر پر لگائے گئے کیمرے کی مدد سے النور مسجد میں نمازیوں پر حملے کو فیس بک پر لائیو دیکھایا، اپنے آپ کو اٹھائیس سالہ آسٹریلین برینٹن ٹارنٹ بتایا۔ اس فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ کس طرح النور مسجد کے اندر مرد، عورتوں اور بچوں پر اندھادھند فائرنگ کر رہا ہے۔۔

پولیس نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس انتہائی دردناک فوٹیج کو فارورڈ کرنے سے گریز کریں۔ پولیس نے حملہ آور کا فیس بک اور انسٹاگرام اکاونٹ کو ختم کر دیا ہے اور وہ اس فوٹیج کو ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔

مسجد النور میں کیا ہوا؟
مسجد النور میں موجود عینی شاہد عوام علی نے حملے کا آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہوئے ریڈیو نیوزی لینڈ کو بتایا ’اس شخص نے فائر کرنا شروع کر دیا، ہم سب نے بس بچنے کے لیے پناہ لی۔‘

’جب ہمیں گولیاں چلنے کی آواز آنا رک گئی تو ہم کھڑے ہوئے اور ظاہر ہے کچھ لوگ مسجد سے باہر بھاگ گئے۔ جب وہ واپس آئے تو وہ خون سے لت پت تھے۔ ان میں سے چند لوگوں کو گولیاں لگیں تھیں اور تقریباً پانچ منٹ بعد پولیس موقعے پر پہنچ گئی اور وہ ہمیں باحفاظت باہر لے آئے۔‘

’ہمارا شہر بدل گیا ہے‘
کرائسٹ چرچ شہر کی میئر لیئین ڈلزیل نے ’المناک‘ حملے کے بارے میں جاری ایک بیان میں کہا کہ ’آج ہمارا شہر ہمیشہ کے لیے بدل گیا ہے۔‘

انھوں نے پولیس اور متاثرین کا خیال کرنے والے لوگوں کا شکریہ ادا کیا ہے اور لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ’ایک دوسرے کا خیال رکھیں۔‘

حکومتی اعدادوشمار کے مطابق نیوزی لینڈ کی آبادی کا صرف 1.1 فیصد حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ سنہ2013 میں کی گئی مردم شماری کے مطابق نیوزی لینڈ میں 46000 مسلمان رہائش پزیر تھے، جبکہ 2006 میں یہ تعداد 36000 تھی۔ سات سالوں میں 28 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا اور یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔

حملے کی مبینہ ویڈیو
ایک غیر مصدقہ ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے جو مبینہ طور پر حملہ آور کی بنائی ہوئی ہے۔ اس میں اسے لوگوں پر فائرنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم فیس بک نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس ویڈیو کو اپنی سائٹ سے ہٹا رہے ہیں۔

ہم بہت بڑی مصیبت کا شکار ہیں، کوئی فائرنگ کر رہا ہے‘
نیوزی لینڈ کے دورہ پر آئی بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی تمیم اقبال نے ایک ٹویٹ میں بتایا کہ پوری ٹیم جان بچا کر نکلنے میں کامیاب ہوگئی۔

جب حملہ ہوا تو بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی النور مسجد کے قریب تھے۔ بنگلہ دیش میں ویب سائٹ کرک انفو کے نامہ نگار محمد اسام نے بی بی سی کو بتایا کہ فائرنگ کے وقت وہ کھلاڑیوں کے ہمراہ تھے۔

اسام کہتے ہیں: ’میں نے انھیں پارکنگ سے باہر نکلتے دیکھا، پانچ منٹ کے اندر ایک کھلاڑی (اقبال) نے مجھے مدد کے لیے بلایا۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں بچاؤ، ہم بہت مصیبت میں ہیں، کوئی فائرنگ کر رہا ہے۔‘

’پہلے میں نے انھیں سنجیدگی سے نہیں لیا، لیکن پھر ان کی آواز کپکپا رہی تھی تو میں بس دوڑ پڑا۔ میں جائے وقوعہ تک دوڑ کر جانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن پھر مجھے کسی سے لفٹ مِل گئی اور میں اس جگہ تک پہنچ گیا۔‘

ایک حملہ آور کی جانب سے فیس بک پر ڈالی جانے والی حملے کی لائیو ویڈیو کو اگرچہ ہٹا دیا گیا ہے، لیکن متعدد مختلف اکاؤنٹس سے دوبارہ اپ لوڈ کی جانے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا کہ حملہ آور ایسے ہتھیار گاڑی سے نکالتا ہے جن پر مختلف عبارتیں لکھی ہیں اور اس کے بعد وہ مسجد میں داخل ہو کر نمازیوں پر فائرنگ کرتا ہے۔

حملہ آور نے یقینی بنایا کے کوئی بھی مسجد سے باہر نکلنے نہ پائے۔ اس دوران وہ بھاگنے والے نمازیوں کا پیچھا کرتے ہوئے باہر پارکنگ تک نکل جاتا ہے اور ان پر گولیاں چلا کر دوبارہ مسجد میں آ کر بھاگنے کی کوشش کرنے والے زخمیوں پر دوبارہ گولیاں چلاتا ہے۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حملہ آور تین مرتبہ مسجد میں آیا اور آخری چکر میں اس نے ایک ایک شخص کے قریب جا کر ان پر متعدد بار گولیاں چلا کر ان کی موت کو یقینی بنایا۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں