دہشت گرد آسٹریلوی شہری پر کون سی دفعات لگائی گئیں، عدالت میں کب پیش کیا جائیگااور کتنی سزا مل سکتی ہے؟ جانئے

لاہور(ویب ڈیسک ) نیوزی لینڈ کی مسجد میں مسلمانوں کو شہید کرنے والے دہشتگرد کو کل عدالت میں پیش کیا جائے گا، دہشتگرد پر قتل کی دفعات لگائی گئی ہیں، 28 سالہ ملزم آسٹریلوی شہری ہے، تاہم تاحال حملہ آور کو دہشتگرد قرار دینے سے گریز کیا جا رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں نماز جمعہ میں مسلح دہشتگرد کی فائرنگ کے نتیجے میں 49 افراد جاں بحق اور48 سے زائد زخمی ہوگئے۔

تین منٹ تک مسجد میں فائرنگ کرنے کے بعد حملہ آور مرکزی دروازے سے باہر نکلا جہاں اس نے گاڑیوں پر بھی فائرنگ شروع کر دی، حملہ آور جدید ہتھیاروں سے لیس اور پیٹرول بموں سے بھری گاڑی کیساتھ پہنچا تھا جو ہیلمٹ میں لگے کیمرے سے واردات کی ویڈیو لائیو اسٹریمنگ کرتارہا، ایک حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا۔
حملہ آور کو کل ہفتہ کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

بتایا گیا ہے کہ مساجد میں فائرنگ کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے علاقہ اپنے گھیرے میں لے لیا۔ سکیورٹی اداروں کی ابتدائی تفتیش میں ملزم نے اپنی شناخت آسٹریلوی شہری برینٹن ٹیرینٹ کے نام سے کی ہے۔ حملہ آور وردی میں ملبوس تھا،جس کی عمر28 سال بتائی گئی ہے۔ پولیس نے حملہ آور سے تعلقات کے شبہ میں دوساتھیوں کو بھی گرفتار کرلیا ہے۔ دوسری جانب ایڈیٹر رپورٹنگ اردوپوائنٹ ثناءاللہ ناگرہ کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق نیوزی لینڈ حملے نے مسلمانوں کیخلاف بغاوت کا پردہ چاک کردیا،دہشتگرد کی رائفل پر مسلمانوں کیخلاف بغاوت کرنے والوں کی باقاعدہ ناموں کے ساتھ ہسٹری درج ہے، خلافت عثمانیہ ،خلافت بنوامیہ،ویانا محاصرہ،ترکوں کاقتل،مہاجرطلباء کے قتل سمیت دیگر ہسٹری درج ہے۔
نیوزی لینڈ حملے کی منصوبہ بندی کچھ دنوں کی پلاننگ ظاہر نہیں ہوتی بلکہ نیوزی لینڈ میں مسجد پر حملہ کرنے والادہشتگرد پچھلے کئی عرصے سے منصوبہ بندی کرتا آرہا تھا،حملہ آور نے جس انداز میں منصوبہ بندی کی ، اس سے یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے ،کہ اس دہشتگرد منصوبہ بندی میں برینٹن نامی دہشتگرد اکیلا شامل نہیں ہے، بلکہ اس کے پس پردہ ایک پورا نیٹ ورک موجود ہے۔

اس کے ساتھ بین الاقوامی قوتوں کی جانب سے حملے کو باقاعدہ دہشتگرد حملہ قرار نہ دینا بلکہ اس کو قتل عام کہنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یہ مسلمانوں کیخلاف کوئی بڑی سازش کی جا رہی ہے۔ تاہم اقوام متحدہ سمیت عالمی دنیا کو چاہیے کہ اس حملے کو دہشتگرد حملے کے تناظر میں دیکھے اور حملے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کروائیں۔ جیسا کہ حملہ آور کی رائفل پر تحریر الفاظی سے واضح ہوجا تا ہے کہ وہ قاتل نہیں بلکہ انتہا پسند اور دہشتگرد تھا۔
کیونکہ ایک دہشتگرد ہی کسی بھی مذہب کے ماننے والوں کیخلاف اس طرح کے عزائم رکھ سکتا ہے۔نیوزی لینڈ کی مسجد میں حملہ کرنے والے کی رائفل پر درج تھا کہ وینس کے ایک فوی افسر کا نام (Antonio Bragadin) تھا، اس فوجی نے معاہدے کی خلاف ورزی کرکے ترک مغویوں کو قتل کیا تھا۔ فرنگی فوجی رہنماء کا نام (Charles Martel) تھا جس نے معرکہ بلاط الشہداء میں مسلمانوں کو شکست دی،اسی دوران اسپین میں بھی خلافت بنو امیہ کو فرنگیوں کے ہاتھوں شکست ہوئی۔
اینٹون لنڈن پیٹرسن(Anton Lundin Pettersson) یہ سوئیڈن میں2 مہاجر طالبعلموں کو قتل کرنے والے حملہ آور کا نام تھا۔ الیگزینڈر بیسونیٹ(Alexandre Bissonnette) نامی حملہ آور کینیڈا میں دو ہزار سترہ میں ایک مسجد پر حملہ کرکے چھ لوگوں کو قتل کردیا تھا۔ سکندربرگ البانیہ(Skanderberg) خلافت عثمانیہ کیخلاف بغاوت کرنے والے رہنماء کا نام ہے۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں