نیوزی لینڈ کی خاتون وزیراعظم جیسنڈا آڈرن پوری دنیا کے امن پسندوں کی آنکھوں کا تارا، مگر محترمہ خود کس مذہب اور عقیدے سے تعلق رکھتی ہیں ؟ جان کر آپ کو حیرت کا جھٹکا لگے گا

لاہور (ویب ڈیسک) نیوزی لینڈ کی 38سالہ خاتون وزیراعظم مارمن مسیحی فرقے میں پیدا ہوئیں لیکن اب خود کو لاادری (agnostic) قرار دیتی ہیں یعنی کسی خاص عقیدے سے وابستہ نہیں ہیں۔ اس سے دنیا بھر میں خود کو روشن خیال کہلانے والے افراد اور گروہوں کو یہ قابل تقلید پیغام ملا ہے کہ

نامور کالم نگار وجاہت مسعود اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ روشن خیالی دوسروں کے عقائد کی تحقیر کا نام نہیں بلکہ ہر فرد کے حق عقیدہ کا غیر مشروط احترام کرنے کا نام ہے۔ روشن خیالی کا اعلیٰ ترین درجہ یہی ہے کہ ہمیں عقیدے کے کسی اختلاف سے قطع نظر ظلم، ناانصافی، امتیاز، تفرقے اور تشدد کے خلاف پوری قوت سے کھڑے ہونا چاہئے۔ اب اپنے وطن کے احوال و واقعات پر نظر ڈالنی چاہئے۔ ہم نے چالیس برس پر پھیلی منافرانہ پالیسیوں کے نتیجے میں ستر ہزار جانیں گنوائی ہیں۔ ہماری عبادت گاہوں اور درس گاہوں پر حملے ہوئے۔ ہمارے بہترین سیاسی رہنماؤں نے اپنی جانوں کی قربانی دی۔ ہمارے چھ ہزار سے زیادہ فوجی جوان اور افسر شہید ہوئے ہیں۔ دہشت گردی سے ہونے والے معاشی اور تمدنی نقصان کا کوئی تخمینہ ممکن ہی نہیں۔ ہمیں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے بارے میں دوسرے ممالک سے زیادہ حساس ہونا چاہئے لیکن ہمارا ایک وفاقی وزیر اسمبلی کے اندر اور باہر ایسے غیرذمہ دارانہ بیان دیتا ہے جن کا کوئی دفاع ممکن نہیں۔ خیبر پختونخوا میں ایک رکن صوبائی اسمبلی نے پاکستان کی سب سے بڑی مذہبی اقلیت کے بارے میں غیرحساس الفاظ ادا کئے۔ ایوان میں موجود اقلیتی ارکان کے احتجاج پر اسپیکر مشتاق احمد غنی نے تدبر سے کام لے کر نازیبا الفاظ حذف کرائے اور اعلان کیا کہ پاکستان میں ہر شہری برابر ہے خواہ اس کا کوئی بھی مذہب ہو۔ مشتاق احمد غنی کا دم غنیمت ہے۔ کاش اس درست سوچ کو

ملک کے سیاسی اور تمدنی مکالمے میں زیادہ جگہ مل سکے۔21اگست 1969کو مسجد اقصیٰ میں آتش زنی کے افسوسناک واقعے کے بعد اسلامی ممالک کی کانفرنس قائم ہوئی لیکن اس ادارے کے فکری اور سیاسی خدوخال کبھی واضح نہیں ہو سکے۔ اس ادارے کی رکنیت کا معیار محل نظر رہا۔ اگر یہ مسلم اکثریتی ممالک کا پلیٹ فارم ہے تو گیانا اور بنین جیسے ملک کیسے اس کے رکن ہیں جہاں مسلم آبادی بالترتیب 7فیصد اور 27فیصد ہے۔ پھر خیال آتا ہے کہ خلیج کے دو بڑے مسلم اکثریتی ممالک میں مسلم اقلیتی مسالک پر عرصہ حیات تنگ ہے۔ کسی کو نشاندہی کی توفیق نہیں۔ ایک دوست ملک میں ڈیڑھ لاکھ سیاسی کارکن، دانشور اور صحافی قید ہیں۔ ایک بڑی عالمی طاقت نے اپنے ملک میں مسلمانوں پر عبادت اور مذہبی شعائر کی ناجائز پابندیاں لگا رکھی ہیں۔ دس لاکھ مسلمان محض عقیدے کی پاداش میں قید ہیں۔ برما کے روہنگیا مسلمان نسل کشی کا شکار ہیں۔ عراق، شام، لیبیا اور یمن برباد ہو چکے، اسلامی کانفرنس کے رکن ممالک خاموش ہیں۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے یاد دلایا ہے کہ اسلام سلامتی کا مذہب ہے، سلامتی اپنے لئے اور سلامتی سب کے لئے۔ کرائسٹ چرچ کے سانحے کے بعد دنیا میں بالآخر ایک اسلامی ملک دریافت ہو گیا ہے جہاں ریاست اور معاشرہ اقلیت کے تحفظ پر یکسو اور پرعزم ہیں۔ ایک حقیقی اسلامی ملک وہی ہو سکتا ہے جہاں عقیدے کو سیاسی اور معاشی مفادات کا آلہ کار نہ بنایا جائے۔ جیسنڈا آدرن کا شکریہ اہلِ نیوزی لینڈ کا شکریہ۔ ۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں