ڈاکٹر شاہد مسعود نے میڈیا اور ملک چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا، وجہ بھی انتہائی افسوسناک

اسلام آباد ( آن لائن) سینئر اینکر پرسن ڈاکٹر شاہد مسعود نے اپنے ساتھ دوران حراست ہونے والے سلوک کے باعث ملک اور میڈیا چھوڑ دیا ہے۔ ڈاکٹر شاہد مسعود خود کے ساتھ ہونے والے سلوک کے باعث شدید ڈپریشن میں مبتلا ہیں اور مختلف بیماریوں کا شکار ہوچکے ہیں جبکہ وہ حکومت کے رویے سے بھی مایوس ہیں جس کے باعث وہ میڈیا اور ملک چھوڑ کر بیرون ملک منتقل ہوگئے ہیں۔

شہر اقتدار سے تعلق رکھنے والے صحافی عدیل وڑائچ نے ایک ویڈیو میں بتایا کہ ان کی ڈاکٹر شاہد مسعود سے تفصیلی بات چیت ہوئی ہے جس میں سینئر اینکر پرسن نے اپنے ملک چھوڑنے کی وجوہات تفصیل کے ساتھ بیان کی ہیں۔ عدیل وڑائچ کے مطابق ڈاکٹر شاہد مسعود نے پاکستان اور میڈیا چھوڑ کر نہ صرف بیرون ملک سکونت اختیار کرلی ہے بلکہ وہ سوشل میڈیا سے بھی آﺅٹ ہونے اور اپنا ٹوئٹر اکاﺅنٹ ختم کرنے کا سوچ رہے ہیں۔

عدیل وڑائچ کے مطابق ڈاکٹر شاہد مسعود کے ساتھ دوران حراست جو سلوک ہوا اس کے بعد انہوں نے اپنی روٹین دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی لیکن انہیں ڈپریشن کی وجہ سے کئی بیماریاں لگ گئیں، ان کی حالت کافی زیادہ خراب ہوتی جارہی تھی جس کے باعث وہ بیرون ملک چلے گئے۔

عدیل وڑائچ نے بتایا کہ ڈاکٹر شاہد مسعود کے سینسری فیلیئر کی شرح بڑھتی جارہی تھی اور یہ 45 سے بڑھ کر 65 فیصد ہوچکا ہے۔ یہ فالج کی ایک قسم ہوتی ہے جس میں انسان کے اندر سے چیزوں کا احساس ختم ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ڈاکٹر شاہد مسعود کو پوسٹ پرو میٹک ڈس آرڈر بھی لاحق ہوچکا ہے، اس بیماری کے بعد لوگ خود کشی کرلیتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے کہ جو کچھ ان کے ساتھ کیا گیا اس کی دنیا میں کہیں کوئی مثال نہیں ہے۔

ڈاکٹر شاہد مسعود نے صحافی کو بتایا کہ ان کے ساتھ جیل میں جن آفیسرز کی ڈیوٹی تھی ان کے خلاف حکومت کی جانب سے انکوائریاں شروع کرکے انہیں معطل کردیا گیا ہے، ان افسران و اہلکاروں پر الزام ہے کہ انہوں نے ڈاکٹر شاہد مسعود کو سہولیات کیوں دیں۔ ڈاکٹر شاہد مسعود نے جب اس سلسلے میں تحریک انصاف کے لوگوں سے اس سلسلے میں کی تو انہیں سخت مایوسی ہوئی۔ڈاکٹر شاہد مسعود نے واضح کیا کہ وہ اپنے خلاف کیسز کا سامنا کریں گے۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں