وہ گھر کبھی غریب نہیں ہوگا۔۔۔اگر آپ اپنے گھر سے غربت کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں تو نبی اکرم ﷺ کی بتائی ہوئی یہ چیز گھر لے آئیں

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بن عبد اللہ روایت فرماتے ہیں: “نبی صلّی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم نے ایک مرتبہ اپنے گھر والوں سے سالن کا پوچھا. انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس سرکہ کے علاوہ کچھ نہیں ہے.انہوں نے اسے طلب کیا اور فرمایا کہ سرکہ بہترین سالن ہے”.حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہ

روایت فرماتی ہیں: “ہمارے پاس نبی صلّی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم تشریف لائے اور پوچھا کہ کیا تمہارے پاس کھانے کے لئے کچھ ہے. میں نے کہا نہیں! البتہ باسی روٹی اور سرکہ ہے. فرمایا کہ اسے لے آؤ. وہ گھر کبھی غریب نہیں ہوغریب ہو گا. جس میں سرکہ موجود ہے”.حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ روایت فرماتی ہیں: “رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم نے فرمایا سرکہ بہترین سالنہے”.حضرت ام سعد رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کہ گھر میں موجود تھی اور انہوں نے فرمایا:کیا تمہارے پاس کھانے کو کچھ ہے. انہوں نے کہا ہمارے پاس روٹی، کھجور اور سرکہ ہے. رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم نے فرمایا: “بہتر سالن سرکہ ہے.” اے اللہ! تو سرکہ میں برکت ڈال کے یہ مجھ سے پہلے نبیوں کا سالن تھا. اور وہ گھر غریب نہ ہو گا جس میں سرکہ موجود ہو”. ۔ دوسری جانب ایک مشہور انگریزی کہاوت ہے کہ’’دن بھر میں محض ایک سیب کا استعمال ڈاکٹر سے دور رکھتا ہے ‘‘ ۔ وکٹوریائی عہد میں لوگوں کو انتہائی واضح اور سہل انداز میں صحت عامہ کا شاندار مشورہ تھا کہ ڈاکٹروں کو دور رکھنے کیلئے روزانہ ایک سیب کھائیں۔یہی کچھ سیب سے تیار سرکہ کے بارے میں کہا جاتا ہے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ سیب کا سرکہ نئی ایجاد ہے جبکہ اس کا استعمال کافی پرانا ہے۔ سرکہ کیا ہوتا ہے؟ سوال یہ پید اہوتا ہے کہ آخر یہ سرکہ کیا چیز ہے؟عربی‘فارسی اور اردومیں بیک وقت ایک ہی

نام سے معروف سرکہ یاVinegarایک تیزابی مادہ ہوتا ہے جو عام طور پر ایتھنول سے تیار کیا جاتا ہے۔ انگور، گنا، جامن اور سیب وغیرہ میں سے کسی کو برتن میںڈال کر دھوپ میں رکھ کر بھی تیار ہو سکتا ہے اصل میں یہ پھل سڑ کر سرکہ بنتا ہے۔ سرکہ کی اہمیت:سرکہ ذہنی صلاحیتوں کو تیز کرتا ہے اور اس سے مثانہ کی پتھری گل جاتی ہے۔اس کے علاوہ مسلم اطباء نے اس کے بارے میں بہت لکھا ہے۔ مثلاً بو علی سینا کہتے ہیں کہ روغن گل میں ہم وزن سرکہ ملا کر خوب ملائیں۔ پھر موٹے کپڑے کیساتھ سرکہ کو رگڑ کر سر کے گنج پر لگائیں۔ انہی کے ایک نسخہ کے مطابق کلونجی کو توے پر جلا کر سرکہ میں حل کرکے لیپ کرنے سے گنج ٹھیک ہو جاتا ہے۔ اسی مقصد کیلئے ادرک کا پانی اور سرکہ ملا کر لگانا بھی مفید ہے۔ بال اگانے کیلئے کاغذ جلا کر اس کی راکھ سرکہ میں حل کرکے لگانے کے بارے میں بھی حکماء نے ذکر کیا ہے۔ کیسے اور کہاں بنا؟ سرکہ بنی نوع انسان کیلئے ایک تحفہ ہے کیونکہ یہ قدرتی طور پر بنتاہے۔ سرکہ کی تاریخ دس ہزار سال پرانی ہے۔ موجودہ دور کی طرح اس زمانے میں بھی سرکہ چیزوں کو محفوظ کرنے، حسن کی حفاظت، گھریلو صفائی اور ادویات بنانے میں استعمال ہوتا تھا۔ سرکہ کا لفظ لاطینی زبان کے لفظ vinum سے ماخوذ ہے جس کے معنی’’ کھٹائی ‘‘ ہیں۔ پانچ ہزارقبل از مسیح میں کھجور کا مربہ اور پھر کھجور کا سرکہ بنایا گیا تھا۔

بعد میں رومنزنے انگور، انجیر اور کھجور سے سرکہ تیار کیا۔ اجزاء اور تیاری:اس کے بنیادی اجزاء میں ایسٹک ایسڈشامل ہوتا ہے۔ قدرتی طور پر بنائے ہوئے سرکہ میں تارتارک تیزاب اور سٹرک تیزاب بھی شامل ہوتے ہیں۔ اس کی کثافت 0.96 گرام فی ملی لیٹر ہوتی ہے۔ اس میں نہ نشہ رہتا ہے اور نہ ہی شراب کی خبیث خصوصیات باقی رہتی ہیں۔ اسے مصنوعی طریقہ سے بھی بنایا جا سکتا ہے ۔اس کو بنانے کا ایک تیز رفتار طریقہ بھی ہے۔ سست عمل سے بہتر اور روائتی سرکہ تیار ہوتا ہے لیکن اس کیلئے بھی کچھ سرکہ یا محلول ملانا پڑتا ہے جس میں ایسٹک ایسڈکے بیکٹیریا شامل ہوں۔ اقسام جو کا سرکہ:اسے جو سے تیار کیا جاتا ہے۔ جو میں موجود نشاستہ کو مالٹوز میں تبدیل کیا جاتا ہے جس سے سرکہ بنتا ہے۔ گنے کا سرکہ:سرکہ گنے کے رس سے بھی تیار کیا جاتا ہے۔

یہ قسم ہندوپاک میں عام طور پر میسر ہے۔ پھلوں کا سرکہ:سرکہ کو بے شمار پھلوں سے بھی تیار کیا جاتا ہے۔ اس میں زیادہ تر کھجوریں ، سیب، ناریل، کشمش وغیرہ استعمال ہوتی ہیں۔ شہد کا سرکہ:یہ قسم کمیاب ہے۔ زیادہ تر فرانس اور اطالیہ میں ملتی ہے۔ سیب کا سرکہ :سیب کے سرکہ میں پوٹاشیم، کیلشیم، میگنیشیم، فاسفورس، کلورین، سوڈیم، کاپر، آئرن اور وٹامن کی کافی مقدار پائی جاتی ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ سیب کے سرکہ میں موجود پوٹاشیم دل کی بیماری اور بلڈپریشر میں مفید ہے۔ روزانہ ایک گلاس پانی میں ایک چائے کا چمچ سیب کا سرکہ ملا کر پی لیا جائے تو اس میں موجود پوٹاشیم خون کو پتلا کر کے بلڈپریشر کو کنٹرول رکھتی ہے۔ قدرتی حسن کا ذریعہ:سیب کا سرکہ قدرتی خوبصورتی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

کم وقت میں چہرے کو نرم و ملائم کرنے کیلئے اپنے چہرے پر چند قطرے سیب کے سرکہ سے مساج کریں۔ نہاتے ہوئے ایک کپ سیب کا سرکہ پانی میں شامل کر لیں یہ جسمانی تھکاوٹ دور کرنے میں مدد کرتا ہے، جلد کو نرم و ملائم کرتا ہے اور بالوں میں چمک آتی ہے۔ ہربل ماہرین کے مطابق فیشل میں بھاپ لیتے ہوئے پانی میں چند قطرے سیب کا سرکہ ڈالیں یہ جلد کی گہرائی تک صفائی کر کے اسے چمکدار اور صحت مند کرتا ہے۔ زمانہ قدیم میں وزن کم کرنے کیلئے سیب کا سرکہ مصریوں کی خوراک کا اہم جزو رہا ہے۔ نہار منہ ایک چمچ سیب کا سرکہ ایک گلاس پانی میں ملا کر پینا، یا ہر کھانے سے پہلے پینا وزن کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ کیونکہ یہ حراروں کو جلاتا ہے اگر سیب کا سرکہ ترشی کی وجہ سے پینا مشکل لگے تو اس میں مٹھاس کیلئے ایک چائے کا چمچ شہد بھی ڈالا جا سکتا ہے۔ ٭…٭…٭

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں