اچھا تو یہ بات تھی ۔۔۔۔ نیب نے سارے وکلا کو چھوڑ کر صرف نعیم بخاری کی ہی خدمات حاصل کیوں کی؟ ارشاد بھٹی نے اصل کہانی قوم کے سامنے رکھ دی ۔

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)تجزیہ کارارشادبھٹی نے کہاہے کہ نعیم بخاری کو نیب نے اس لئے وکیل رکھاہے کہ ان کی جانب سے پانامہ کیس لڑا گیا اور ان کو ہاﺅس آف شریف کا سارا پتہ ہے ، یہ اچھی بات ہے ۔نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ارشاد

بھٹی نے کہا کہ نیب بخار ی کو وکیل کرنے سے نیب سیاست زدہ نہیں ہوگا ، وہ نیب کے وکیل ہونگے کوئی فیصلہ نہیں کریں گے ، اعتزاز احسن پیپلز پارٹی کے تھے ، وہ نواز شریف کے وکیل رہے ،سرکاری طور پر اکرم شیخ مشرف کیس میں حکومت کے پراسیکیوٹر تھے اور شریف خاندان کے کیسز بھی لڑتے رہے ۔انہوں نے کہا کہ نعیم بخاری کو نیب نے اس لئے وکیل رکھاہے کہ ان کی جانب سے پانامہ کیس لڑا گیا اور ان کو ہاﺅس آف شریفس کا سارا پتہ ہے ، یہ اچھی بات ہے ۔خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری 1روپے تنخواہ کے عوض سپریم کورٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف شہباز شریف کے خلاف تمام کیسز میں نیب پراسیکیوٹر کے طور پر پیش ہوں گے۔ نعیم بخاری میاں شہباز شریف کے خلاف تمام کیسز میں نیب کی نمائندگی کریں گے۔ نعیم بخاری پانامہ پیپر کیس میں بھی پی ٹی آئی کی جانب سے نواز شریف کے خلاف کیس لڑ چکے ہین جبکہ وہ 2016سے پاکستان تحریک انصاف کے رکن بھی ہیں۔

نعیم بخاری سابق وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اور لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سابق ڈائریکٹر احد چیمہ کے خلاف بھی نیب کی معاوت کریں گے۔ نیب راولپنڈی نے ایک پریس رلیز میں بیان جاری کیا ہے کہ ’نیب نے شہباز شریف، فواد حسن فواد اور احد چیمہ کے خلاف سپریم کورٹ میں چلنے والے کیسز میں سپریم کورٹ کے وکیل نعیم بخاری کی خدمات حاصل کر لی ہیں اور نیب کا شعبہ پراسیکیوشن اس حوالے سے انکی معاونت بھی کرے گا‘۔پریس ریلز میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ نعیم بخاری کن شرائط و ضوابط کے تحت معاونت کریں گیں تاہم نیب کے ترجمان نے بتایا ہے کہ نعیم بخاری ان مقدمات میں پیش ہونے کے عوض 1روپیہ تنخواہ لیں گے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ نعیم بخاری صرف شہباز شریف، فواد حسن فواد اور احد چیمہ کے خلاف 3کیسز مین نیب کی معاونت کریں گے۔ یاد رہے کہ 2016مین نعیم بخاری نے وزیر اعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف مین شمولیت اختیار کر لی تھی اور ان کی جانب سے حکومت کے خلاف دائر مقدمات مین بطور وکیل بھی پیش ہوئے تھے۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں