پنجاب کا نیا سپاہ سالار کون ہوگا ؟ آئی جی ہٹانے کی وجہ تبادلوں میں کرپشن،کرپٹ افسر آنکھ کے تارے سی پی او طاقتور ڈی ایس پی کے زریعے”اصل”کام لئے جاتے ہیں لیگیوں کا ہمدر د،ڈی آئی جی لاہور ایجنسیوں نے حکومت کی آنکھیں کھول دیں

لاہور(رپورٹ:اسد مرزا)حکومت نے آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی کو تبدیل کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ذرائع کا کہناہے کہ پنجاب پولیس کے نئے سربراہ کے لئے آئی جی موٹر وے اللہ دینو خواجہ ،شعیب دستگیر ،اور سابق آئی جی پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز کے ناموں پر غور کیا جا رہا ہے ۔اطلاعات کے مطابق بی پی ایس۔ 22گریڈکے آئی جی موٹر وے اللہ ڈینو خواجہ پنجاب پولیس کے نئے سپہ سالار ہو سکتے ہیں ۔بتایا گیاہے کہ موجودہ آئی جی امجد جاوید سلیمی کی تعیناتی کے بعد حکومت کومختلف شکایات موصول ہو رہی تھی کہ وہ آرائیں برادری کے پولیس افسران کو سپورٹ کرنے کے علاوہ ایک اہم شخصیت کی اشاروں پر کام کرتے ہیں ۔اسی طرح آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی کی تعیناتی کے بعد اپنی پسند کے افسروں کو اہم سیٹوں پر تعینات کئے جس کے بعد ڈی ایس پیز کی ٹرانسفر پوسٹنگ اور پرموشن کی لوٹ سیل لگا دی گئی ۔ ٹرانسفر پوسٹنگ میں کرپشن کی شکایت پر وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی ہدایت پر انٹیلی جنس بیورو نے اس معاملے کی تحقیقات کی اور اپنی رپورٹ میں کرپشن کی شکایات کی تصدیق کی جس پر پنجاب پولیس کے دو افسروں کی خدمات وفاق کے سپرد کر دی گئیں ۔بتایا گیاہے کہ سابق دوری حکومت میں تحریک انصاف مارچ کے دوران عمران خان کے قافلے پر فائرنگ کرنے والے پومی بٹ گروپ کے خلاف پولیس نے موثر کارروائی نہ کی اس دوران سی پی او گوجرانوالہ وقاص نذیر تھے انہیں آئی جی پنجاب نے ڈی آئی جی آپریشن لاہور تعینات کر دیا ۔ نیب کی جانب سے حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لئے ماڈل ٹاؤن جانے والی نیب کی ٹیم کو بھی پولیس کی مناسب سپورٹ نہ ملنے پر ناکامی کا سامنا رہا ۔نیب حکام اور خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے پولیس کی اس سستی یا ملی بھگت کی رپورٹس پر پر حکومتی حلقوں میں تشویش پائی جانے لگی کہ۔پولیس ذرائع کا کہناہے کہ اس سے قبل آئی جی پنجاب نے منظور نظر ڈی آئی جی احمد اسحاق جہانگیرکو ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ کے عہدے پر تعینات کروانے کے لئے وزیر اعلی پنجا ب سے ملاقات کرانے کی کوشش کی لیکن وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے انہیں ڈانٹ دیا اور ڈی آئی جی سے ملاقات سے انکار کر دیا بعد ازاں ڈی آئی جی کو پنجاب کی ایک اہم شخصیت کی سرپرستی میں آر پی او راولپنڈی تعینات کروا دیا جس پر سپیکر پنجاب اسمبلی نے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا ۔ذرائع کا کہناہے کہ آئی جی پنجاب کے پی ایس او (PSP)ایس ایس پی افسیر کام کر رہے ہیں لیکن پی ایس او (A)کے نام سے ڈی ایس پی ناصر ضیا گھمن کام کر رہا ہے جس کے بارے سنٹرل پولیس آفس کے افسران نے بھی ناصر ضیاڈی ایس پی کی غیر قانونی سرگرمیوں کی شکایات کر چکے ہیں تاہم سب جانتے ہیں یہ ڈی ایس پی اسوقت سے آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی کے ساتھ کام کر رہا ہے جب وہ آر پی او ساہیوال تھے ۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں