ملک میں مڈٹرم انتخابات کی تیاریاں، وزیراعظم کا اسمبلیاں تحلیل کرنے پر سنجیدگی سے غور

لاہور(ویب ڈیسک) سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اسمبلی توڑنے کا سوچ رہے ہیں،عمران خان جتنی مرضی تردید کریں،لیکن وہ اسمبلیاں توڑنے کا کافی عرصے سے سوچ رہے ہیں،پہلے بھی کہہ چکے کہ کسی بھی وقت مڈٹرم الیکشن ہوسکتے ہیں۔انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں تبصرہ کرتے ہوئے بتایا کہ اپوزیشن توپریشان ہے لیکن عمران خان کیوں پریشان ہیں؟ یہ جو اسد عمر کو ہٹانے کی خبر اڑی ہے؟ یہ ایسے ہی اڑ گئی ہے؟ کہا جا رہا ہے کہ ان کی جگہ ٹیکنو کریٹ کو لایا جارہا ہے، اب نام شوکت ترین ، ہارون اختر یاہمایوں اخترکا نام چل رہا ہے، اسد عمر کہتے کہ میں تو نہیں جاؤں گا۔
اوپر سے فواد چودھری کا خوبصورت ٹویٹ ،ایسے معصوم بھولے بھالے، مجھے کہنا تو نہیں چاہیے ، پیار ے سے دوست ہیں، پی ٹی آئی کے موٹوگینگ ہیں،کہتے کہ وزیراعظم کو وزراء کو تبدیل کرنے کا پورا اختیار ہے۔

پھر حکومت کی جانب سے تردید آگئی، انہوں نے کہا کہ عمران خان پارٹی کے اندر پراکسی وار کی وجہ سے پریشان ہیں۔شاہ محمود قریشی ، جہانگیرترین لڑائی۔

اس کو ہٹا دو، اس کو لگا دو،عمران خان پریشان ہیں کیونکہ عمران خان کا نعرہ تبدیلی اور انصاف کا کلچر لانے کا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اسمبلی توڑنے کا سوچ رہے ہیں،عمران خان اس بات کی جتنی مرضی تردید کریں،میں اپنی بات پر قائم ہوں۔ کہ عمران خان اسمبلیاں توڑنے کا کافی عرصے سے سوچ رہے ہیں۔پہلے بھی انہوں نے کہا کہ کسی بھی وقت مڈٹرم الیکشن ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ن لیگ اور چودھری برادران کے تعلقات بہتر ہیں،شہبازشریف اور حمزہ شہباز کی پوزیشن بہت ہے جبکہ مریم نواز پریشان ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اور پوری حکومت اور تمام میڈیا کیلئے ایک چیلنج ہے، وہ یہ ہے کہ جو میں نے 70دن جیل میں گزارے، اس کے بعد کہا گیا کہ ڈاکٹر شاہد مسعود کا ان کمپنیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میرا سوال وزیراعظم عمران خان اور عدالتوں اور اداروں سے سوال ہے کہ اگر میرا س میں تعلق نہیں تھا توکس کا تعلق تھا؟ اگر ان کمپنیوں کا تعلق مجھ سے نہیں تھا توپھر کس سے تعلق تھا؟

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں