حکومت کی جانب سے عوام کیلئے ریلیف۔۔۔وزیر خزانہ نے قوم پر لگایا گیابھاری ٹیکس ختم کرنے کا عندیہ دے دیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) : آئندہ بجٹ میں جائیداد رجسٹریشن پر عائد ٹیکس ختم ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔اس حوالے سے میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ 3 فیصد ٹیکس ادائیگی سے کالا دھن سفید کرنے کی سکیم ختم ہونے کا امکان ہے۔بجٹ میں مارکیٹ ویلیو اور ایف بی آر ویلیو میں فرق ختم ہو گا۔ایف بی آر مارکیٹ ویلیو کے مطابق ڈی سی ویلیو کو بڑھائے گا،۔

ایف بی آر پراپرٹی ویلیو بڑھانے پر ٹیکس کی شرح کم کرے گا۔جائیداد پر 12 فیصد تک وفاقی و صوبائی ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت نے لوگوں کو ٹیکس کی زد میں لانے کے لیے یہ اسکیم متعارف کروائی تھی۔تاہم اب میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ آئندہ مالی بجٹ میں کالے دھن کو سفید کرنے کے لیے تین فیصد ٹیکس دینے کی اسکیم کو ختم کر دیا جائے گااور اس حوالے سے نئی پالیسی مرتب کی جائے گی۔

یوں اب وہ لوگ بھی نرغے میں آئیں گے جو حکومت کی طرف سے ملنے والی چھوٹ میں بھی فراڈ کر رہے تھے۔تاہم اس حوالے سےنئی پالیسی کیا مرتب کی جائے گی اس سے متعلق کوئی خبر ابھی تک سنائی نہیں دی۔جب کہ دوسری جانب پنجاب حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس نیٹ ورک بڑھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ایوان وزیر اعلیٰ نے مالی سال 20- 2019ء کے بجٹ کی تیاری کے سلسلے میں ریونیو کے اہداف کو بہتر بنانے کے لئے تجاویز طلب کر لیں۔

وزیر اعلی پنجاب کی ہدایات کی روشنی میں آئندہ مالی سال 20- 2019ء کے دوران نئے ٹیکسز نہ لگانے کی پالیسی وضع کر دی گئی ہے جبکہ عالمی مالیاتی اداروں کی خواہش اور مطالبات کی روشنی میں صوبائی حکومت نے صوبائی ٹیکسز کے نیٹ کو وسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ چیف سیکرٹری آفس کے مصدقہ ذرائع نے بتایا ایوان وزیر اعلی میں ہونے والے اجلاس کے دوران کئے جانے والے فیصلوں کی روشنی میں صوبائی سطح پر پروفیشنل ٹیکس سمیت دیگر حوالوں سے بھی ٹیکس کی شرح میں اضافہ کے بارے میں محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن، پنجاب ریونیو اتھارٹی ،بورڈ آف ریونیو اور دیگر اداروں سے ایک ہفتہ کے اندر اندر تجاویز طلب کرلی گئی ہیں۔
ان تجاویز کی روشنی میں حکومت پنجاب صوبائی بجٹ کے اعدادوشمار کو فائنل کرنے کے لئے ریونیو کی کلیکشن کرنے والے اداروں سے مل بیٹھ کر آئندہ مالی سال کا ہدف مقرر کرے گی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق مالی سال 19-2018ء کے ابتدائی 9 ماہ 16 دنوں کے دوران ٹیکس اکٹھا کرنے والے اداروں کی جانب سے ہدف کے مطابق ریونیو وصولی میں ناکامی سے صوبائی حکومت کو آئندہ مالی سال کے اہداف طے کرنے میں نہ صرف مشکلات کا سامنا ہے بلکہ اہداف اور وصولیوں میں موجودشاٹ فال کی وجہ سے ہی مختلف محکموں کے ترقیاتی اخراجات کی مد میں صوبائی حکومت کو کٹوتی کرنی پڑی ہے ۔

ذرائع نے دعویٰ کیا حکومت آئندہ مالی سال کے دوران بورڈ آف ریونیو کو کارکردگی میں بہتری اوروصولیوں کے نظام میں جدت لانے کی غرض سے ای سٹیمپنگ کی خامیوں کو دور کر کے سسٹم کو موثر بنانے ،ریگریسو ٹیکسیشن کی بجائے پروگریسو ٹیکسیشن کو مزید فروغ دینے ،ٹیکس دہندگان کے اعتماد کے حصول کے انسانی مداخلت کو کم سے کم کر کے ہر سطح پر آٹومیٹیڈ سسٹم متعارف کروانے کا مصمم ارادہ رکھتی ہے ۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں