پیسے دو، کیسز ختم کرواو، حکومت کی پیش کش قبول کرلی گئی، بااثر سیاسی شخصیات نے پلی بارگین کیلئے نیب سے رابطہ کرلیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) : ناجائز اثاثوں اور نیب کی کارروائیوں کو دیکھتے ہوئے اہم سیاسی شخصیات نے پلی بارگین کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ قومی اخبار میں شائع ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ منی لانڈرنگ، کرپشن اور ناجائز اثاثہ جات کے حوالے سے نیب اور دیگر اداروں کے ریڈار پر آئی ہوئی اہم ترین سیاسی شخصیات اور سابق بیوروکریٹس نے پلی بارگین کے لیے رابطوں کی کوششوں کا آغاز کردیا ہے ۔

ذرائع کے مطابق پلی بار گین کے لیے کوشش کرنے والے افراد میں تین بڑی اہم ترین سیاسی شخصیات بھی شامل ہیں جبکہ جو تین اہم ترین سیاسی شخصیات پلی بارگین کے لیے رابطوں کی کوشش کر رہی ہیں وہ وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہی ہیں۔ ایک طرف توحکومت اور اداروں کو انڈر پریشر لانے کے لیے سیاسی محاذ گرم کررہی ہیں جبکہ دوسری جانب یہ کوشش کی جارہی ہے کہ پلی بارگین کے ذریعے کچھ دے کر اپنے آ پ کو بچالیا جائے۔

اہم ذرائع کے مطابق ا س ضمن میں ان اہم ترین سیاسی شخصیات کے قانونی مشیروں نے باقاعدہ رابطے بھی شروع کر رکھے ہیں اور یہ پیشکش بھی سامنے لانی شروع کر دی ہے کہ وہ پچاس فیصد تک ادا کر سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق تاحال اس حوالے سے تفتیش کرنے والے اداروں نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ مکمل رقم ادا کریں تو ان کے خلاف ایکشن نہیں لیا جائے گا جبکہ تین اہم شخصیات و دیگر افراد، جو نیب اور دیگر اداروں کے ریڈار پر ہیں، وہ مکمل رقم کی ادائیگی کی بجائے کچھ دینے اور کچھ بچا لینے کے چکر میں ہیں ۔

ایک ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی کہ ایک بڑی شخصیت نے تو باقاعدہ اپنے قریبی دوست کو کہا کہ اگر بحریہ والے معاملے میں کچھ دے کر ریلیف مل سکتا ہے تو ہمیں بھی اس پر کام کرنا چاہئیے مگر اس طریقہ سے سب کچھ ہو کہ سیاست بھی بچ جائے اور شکنجے سے بھی باہر نکل آ ئیں ۔ ذرائع کے مطابق ان بڑی اہم سیاسی شخصیات کے قانونی مشیروں سمیت ان کے قریبی حلقوں کو یہ بآور ہو چکا ہے کہ ان پر لگنے والے الزامات میں سو فیصد حقیقت ہے اور جو ثبوت اداروں کے پاس موجود ہیں ان کو جھٹلایا جانا نا ممکن ہے اور بہت سے وعدہ معاف گواہ بھی ان کے خلاف تیار ہو چکے ہیں۔

ذرائع نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ پہلے یہ سیاسی با اثر شخصیات اس کوشش میں تھیں کہ حکومت اہم اداروں اور نیب کے خلاف بھرپور اپوزیشن مل کر تحریک چلائے گی اور اس تحریک کے نتیجے میں حکومت کو گرا کر اور اداروں کو انڈر پریشر لا کر اپنے خلاف بننے والے کیسز کو دبا سکیں گے مگر اپوزیشن کے متحد ہونے کے کم امکانات اور متحدہ اپوزیشن کے حکومت مخالف تحریک چلانے میں ناکامی کے بعد اب پلی بارگین کی طرف جانے کی کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک اور بڑی سیاسی شخصیت کے قریبی حلقوں نے تو یہاں تک کہا ہے کہ وہ بھی پلی بارگین کے لیے تیار ہو چکے ہیں مگر وہ ہر صورت میں یہ چاہتے ہیں کہ اگر وہ کچھ ادا کریں تو وہ کسی بھی صورت میں ان کی سیاست پر اثر انداز نہ ہو اور نہ ہی یہ چیز سامنے آ ئے کہ وہ پلی بارگین کر کے بچے ہیں ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی ادارے کسی صور ت میں بھی بلیک میلنگ میں آ نے کے لیے تیار ہیں اور نہ ہی وہ کوئی ایسی ڈیل کرنے کے لیے تیار ہیں جس سے اداروں پر کوئی حرف آ ئے ۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں