مریم اورنگزیب نے وفاقی کابینہ میں بڑے پیمانے پر ردو بدل پر شدید تنقید کا اظہار کیا

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے وفاقی کابینہ میں بڑے پیمانے پر ردو بدل پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نالائق کپتان ہمیشہ نالائق ٹیم کا انتخاب کرتا ہے، بیٹنگ آرڈر کی تبدیلی کے بجائے نالائق کپتان کی تبدیلی پاکستان کے مفاد میں ہے۔ مریم اورنگ زیب نے وزیراعظم عمران خان کے خطاب پر رد…

وفاقی کابینیہ میں ردوبدل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کابینہ میں ردوبدل کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، گورنر کے پی شاہ فرمان اور وزیراعلیٰ کے پی محمود خان بھی گھبرانے والی فہرست میں شامل ہوگئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران صاحب! نوجوان نوکری نہیں بلکہ دعا مانگ رہے ہیں کہ آپ کی نوکری چلی جائے، پاکستان کے عوام جان چکے ہیں کہ پاکستان ویسے ہی چل رہا ہے جیسے پشاور کی میٹروبس چل رہی ہے، پیسوں سے کچھ نہیں ہوتا اگر ہوتا تو پشاور میں ایک کھرب سے میٹرو کے کھڈے نہ ہوتے۔

مریم اورنگ زیب نے اپنے دور حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف نے کبھی نہیں کہا کہ ملک چور ہے اور ملک کے پاس پیسے نہیں ،

پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کا تحفہ دے کر ملک کو نا قابلِ تسخیر بنایا، نوجوانوں کو اُمید دی اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے نا ممکن کو ممکن بنایا۔

یہ بھی پڑھیں:اسد عمر وزیر خزانہ کے عہدے سے مستعفی

ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف نے گیارہ ہزار میگاواٹ بجلی بناکر عوام کو لوڈشیڈنگ کی اذیت سے نجات دلائی،

17 سو کلو میٹر موٹر ویز بنائیں اور ملک کو دہشت گردی سے پاک کیا۔

ترجمان مسلم لیگ (ن) کا کہنا تھا کہ کابینہ کا حجم بڑھانے سے نہیں نیت ٹھیک کرنے سے کارکردگی بہتر ہو گی۔

خیال رہے کہ اورکزئی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے آئندہ بھی کابینہ میں تبدیلیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ جو وزیر ملک کے لیے ٹھیک نہیں ہوگا اس کو تبدیل کردوں گا، ٹیم کا بیٹنگ آرڈر تبدیل کیا ہے اور اس وزیر کو لاؤں گا جو ملک کے لیے فائدہ مند ہوگا۔

خیبرپختونخوا (کے پی) کے وزیر اعلیٰ محمود خان اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک اچھا کپتان مسلسل اپنی ٹیم کی طرف دیکھ رہا ہوتا ہے،

اچھے کپتان کو میچ جیتنا ہوتا ہے اور اس کے لیے ٹیم پر نظر رکھنی پڑتی ہے جبکہ کئی مرتبہ بیٹنگ آرڈر تبدیل کرنا ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں:ناکام اسد عمر کی جگہ ناکام ترین عبدالحفیظ شیخ!

انہوں نے کہا تھا کہ کئی مرتبہ بیٹسمین کو اوپر، نیچے کھلانا پڑتا اور کبھی نئے کھلاڑی کو ٹیم میں لانا پڑتا ہے، جو کپتان ہوتا ہے،

اس کا مقصد صرف ٹیم کو جتانا ہوتا ہے اور وزیر اعظم کا بھی ایک مقصد ہوتا ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ میرا مقصد ہے کہ میں اپنی قوم کو جتاؤں اور اٹھاؤں، میں اللہ کو جوابدہ ہوں، اللہ مجھ سے چاہتا ہے کہ میں ملک کے کمزور لوگوں کو اٹھاؤں یہ میرا مقصد ہے، اس کےلیے ابھی اپنی ٹیم میں تھوڑی تبدیلی کی ہے اور میں آگے بھی کروں گا۔

قبل ازیں وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کے استعفے کے بعد کابینہ میں بڑی تبدیلیاں کرتے ہوئے وزیرپیٹرولیم غلام سرور خان، وزیراطلاعات و نشریات فواد چوہدری اور وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی سمیت دیگر کے قلم دان تبدیل کر دیے تھے جبکہ وزیرصحت عامر محمود کیانی سے استعفیٰ لیا گیا تھا۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں