میرے سینے میں ٹھنڈ تب پڑے گی جب شریفوں اور زر والوں کو یہ سزا دی جائے ۔۔۔۔۔۔نامور صحافی ارشاد بھٹی نے پاکستان کو نوچنے والوں کی ایسی عبرتناک سزا تجویز کر ڈالی جسے شیئر کرنا آپ اپنا قومی فریضہ جانیں گے

لاہور (ویب ڈیسک) چیف جسٹس بولے ’’نواز شریف کی انجیو گرافی ہونا تھی، اس کیلئے ایک گھنٹہ درکار، ہم نے 6ہفتے دیئے، آپ علاج کے بجائے ٹیسٹ پہ ٹیسٹ، ٹیسٹ پہ ٹیسٹ کرواتے رہے، اب آپ چاہتے ہیں نواز شریف کو پھر ریلیف مل جائے‘‘، میاں صاحب کے وکیل خواجہ حارث بولے

نامور کالم نگار ارشاد بھٹی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’نواز شریف کی طبیعت بہت خراب، مزید 8ہفتوں کیلئے ضمانت میں توسیع کی جائے‘‘ چیف جسٹس نے پوچھا ’’کہا جا رہا تھا، نواز شریف کی زندگی کو خطرہ، کیا ضمانت پہ رہائی کے بعد نواز شریف نے علاج کرایا‘‘ خواجہ حارث نے کہا ’’ہائپر ٹینشن، شوگر کا علاج کرایا، لیکن عارضہ قلب مزید پیچیدہ ہوگیا، ان کی صحت اور بگڑ گئی، نواز شریف کی زندگی کو پہلے سے زیادہ خطرہ‘‘، چیف جسٹس بولے ’’اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ ضمانت ملنے سے نواز شریف کا نقصان ہوا‘‘، اس پر عدالت میں قہقہے لگے۔خواجہ حارث نے کہا ’’نواز شریف کے والد کا بھی عارضہ قلب کی وجہ سے انتقال ہوا، میاں صاحب کو ڈیپریشن بھی، روزانہ کی بنیاد پر علاج ہو رہا، وہ جیل جانے کے قابل نہیں، گرفتاری کے بغیر ہائیکورٹ سے رجوع کی اجازت دی جائے‘‘ چیف جسٹس بولے ’’آپ کے پاس آپشنز موجود، ہم پابند نہیں کہ بتائیں آپ کس فورم سے رجوع کریں‘‘ خواجہ حارث نے کہا ’’نواز شریف کی کلوٹیٹ آٹری 50فیصد بڑھ چکی، یہ بہت خطرناک بیماری، انجیو گرافی کا متبادل کارڈیک ایم آر آئی، یہ پاکستان میں ممکن نہیں، بیرونِ ملک علاج ضروری‘‘ چیف جسٹس نے کہا ’’ہمارے ہاں بھی بہترین ڈاکٹر، جدید مشینیں موجود، پاکستانی ڈاکٹروں کا بیرونِ ملک علاج کے حوالے سے مؤقف حتمی نہیں، نواز شریف کے ڈاکٹر لارنس نے بھی یہ نہیں کہا کہ نواز شریف کا علاج صرف ہم کر سکتے ہیں، ڈاکٹر لارنس نے تو کہا ’’ہم بھی یہ علاج کر سکتے ہیں‘‘

آپ نے بیرونِ ملک ڈاکٹروں کے انفرادی خطوط عدالت میں پیش کئے، کیا عدالت ان خطوط پر انحصار کر سکتی ہے؟‘‘ خواجہ حارث بولے ’’یہ تمام ڈاکٹر اپنے شعبوں کے ماہر ہیں‘‘ جسٹس یحییٰ آفریدی بولے ’’ڈاکٹروں کی انفرادی رائے کے بجائے میڈیکل بورڈ کی رائے عدالت میں پیش کی جانا چاہئے تھی، قانون کے مطابق عدالتیں میڈیکل بورڈ کی رائے تسلیم کرتی ہیں‘‘، خواجہ حارث کے دلائل ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہے، چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی پر مشتمل تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی، آخر میں چیف جسٹس نے ’’تھینک یو خواجہ صاحب‘‘ کہا، تینوں ججز نے کچھ دیر مشاورت کی اور ضمانت میں توسیع، بیرونِ ملک علاج کرانے کی درخواست مسترد کر دی۔یہ تو تھا سماعت کا خلاصہ، لیکن واہ رے میرے ملک! 99قید خانے، 80ہزار سے زائد قیدی، پچھلے سال 740بیمار قیدی سسک سسک کر مر گئے، کسی کی اتنی اوقات نہ تھی کہ خواجہ حارث جیسا وکیل کر سکتا، کسی کا نصیب نواز شریف جیسا نہ تھا کہ یوں ایک ایک بیماری، ایک ایک رپورٹ، عدالتوں، ٹی وی اسکرینوں، اخبارات میں ڈسکس ہوتی، کوئی ایسے مقدروں والا بھی نہ تھا کہ معاشرے کی ہمدردیوں کا مستحق ٹھہرتا، کسی کے پیچھے مسلم لیگ جیسی جماعت بھی نہ تھی کہ صبح، دوپہر، شام کیس لڑتی، کسی کی بیٹی بھی ایسی قابل نہ تھی کہ سوشل میڈیا پر ایک منظم مہم چلاتی، کوئی مہربان عدالتوں کی توجہ بھی حاصل نہ کر پایا، لہٰذا سب اپنے دکھوں، غموں، محرومیوں، بے بسیوں سمیت چپ چاپ قبروں میں اتر گئے۔

واہ رے میرے ملک! 80ہزار قیدیوں سے کسی نے پوچھا نہ پوچھ رہا، تمہاری کون کون سی شریانیں بند، تمہارے دل، دماغ، گردے، شوگر، بلڈ پریشر کس حال میں، تمہیں کون کون سے ذہنی دباؤ، اعصابی تناؤ، کسی کیلئے میڈیکل بورڈ نہ جیل میں کارڈیک ایمرجنسی یونٹ۔ واہ رے میرے ملک! کہا جائے یہاں جمہوریت، اصل طاقت جمہور، قانون کی نظر میں سب برابر، ریاست سب کی ماں اور حقیقت یہ، جتنا خیال کرپشن پر سزا یافتہ نااہل مجرم کا پانچ مہینوں میں رکھا گیا، اتنی کیئر کوئی باعزت آزاد شہری عمر بھی حاصل نہ کر پائے، واہ رے میرے ملک! جیب کتروں کو مار مار کر ادھ موا کر دو، مسجدوں سے جوتے چرانے والوں کو الٹا لٹکا دو، لیکن ڈاکوؤں، لٹیروں کیلئے وی آئی پی جیلیں، گھر کا ماحول، ان کے نزلے، زکام پر بھی تڑپ تڑپ جاؤ، واہ رے میرے ملک! جن کی اولادیں، جائیدادیں باہر، جو ولایت کے ’’پنٹ ہاؤس بحری قزاق‘‘، جن کے بارے میں سپریم کورٹ کہے ’’آپ نے عدلیہ، عوام، پارلیمنٹ کو بے وقوف بنایا‘‘، جن کی قدم قدم پر ڈیلیں، سمجھوتے، جھوٹ، ہیرا پھیریاں، وہ یہاں رہبرِ جمہوریت، قائدِ انقلاب، بابائے ’ووٹ کو عزت دو‘، واہ رے میرے ملک! کیا مخولیا نظام، کیا مخولیا جمہوریت، کیا مخولیا احتساب۔محترم چیف جسٹس صاحب نے اسی سماعت میں یہ بھی فرمایا ’’اس کیس سے ایسے تاثر دیا گیا، جیسے مجرم کی ضمانت کوئی انہونی بات، حالانکہ ایسی مثالیں موجود جہاں عدالت نے سزائے موت کے قیدیوں کی طبی بنیادوں پر سزا معطل کی، پتا نہیں ہر شے کو سیاسی رنگ کیوں دیا جائے،

ہر بات پر عدالت کی تضحیک کی کوشش کیوں کی جائے‘‘، میرے پسندیدہ محترم چیف جسٹس نے کہا تو ٹھیک ہی ہوگا، واقعی میاں صاحب کا ریلیف کوئی انہونی بات نہیں ہوگی، واقعی چند اور کو بھی طبی بنیادوں پر ریلیف ملا ہوگا، مگر یہ بھی تو سچ، یہ 22کروڑ کا ملک، یہاں غریب تھانے، کچہریوں میں رُل چکا، رسوا ہو چکا، یہاں کوئی غریب بے گناہ بھی ہتھے چڑھ جائے، گھر اجڑ جائیں، نسلیں مقدمے بھگتیں، لیکن امیروں کے ڈاکے بھی پکڑے جائیں، بڑے سپریم کورٹ پر حملے بھی کر لیں، بااختیار عدالتوں کو تڑیاں بھی لگا لیں، پھر بھی ہر نرمی، رعایت انہی کیلئے، کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ امیروں کے مقدمے بھی ہم غریبوں کی طرح رینگیں، انہیں بھی کبھی وکیل نہ ملے، کبھی جج مصروف ہو، کبھی لمبی تاریخ، بااختیاروں کے پوتے بھی دادوں کے مقدمے بھگتیں، کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ یہ بھی ہمارے ساتھ عام جیلوں میں رہیں، یہ بھی ہمارے ساتھ تھانے کچہریوں میں رُلیں، ان کے کیس بھی ہماری طرح لائنوں میں لگیں، انہیں بھی ہماری طرح دَم گُھٹ قیدی وین میں ٹھونس کر عدالت لایا جائے، انہیں بھی بنا پنکھوں والے بدبودار بخشی خانوں میں ہتھکڑیاں، بیڑیاں پہنا کر گھنٹوں رسوا ہونا پڑے یا تو ہمیں بھی سستا، فوری انصاف ملے یا بڑے بھی انصاف کیلئے ہماری طرح ترسیں، یا تو ہمیں بھی ترجیحی بنیادوں پر سنا جائے یا بڑوں کی بھی ہماری طرح کوئی شنوائی نہ ہو اور یا تو گاڈ فادرز، سسلین مافیاز کو بھی ’انسان‘ بنا دیا جائے یا پھر ہمیں بھی ’انسان‘ سمجھا جائے۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں