لاہور کا یہودی خاندان، یہ کون ہیں؟ ان کی کہانی جان کر پاکستانیوں کی حیرت کی انتہا نہ رہے

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) 1930 کی دہائی میں یورپ سے یہودی فرار ہو کر برطانیہ کے زیرتسلط فلسطین پہنچ رہے تھے۔ ایسے میں کئی یہودی خاندان ہٹلر کی بربریت سے جان بچا کر فرار ہوئے اور پاکستان آ کر پناہ لی۔ ان میں ایک ’کاہن‘ فیملی بھی تھی جو لاہور میں آ کر مقیم ہوئی۔ اس خاندان کی کہانی 1933ءمیں شروع ہوتی ہے، جب کاہن کے والدین ڈاکٹر ہرمن سیلزر اور کیٹ نیومین نازی جرمنی سے فرار ہو کر اٹلی کے لیے نکلے جہاں یہودیوں کو رہائش اور علاج معالجے کی سہولت میسر تھی۔ ہرمن اور کیٹ سالوں پہلے برلن میں ملے تھے اور پھر الگ الگ فرار ہو کر اٹلی پہنچے اور روم میں ان کی دوبارہ ملاقات ہوئی جہاں انہوں نے 1935ءمیں شادی کر لی۔ تاہم ان کی مشکلات کم نہ ہوئیں اور یورپ میں یہودیوں کے لیے خطرہ بتدریج بڑھتا چلا جا رہا تھا، چنانچہ یہودی یورپ سے ہی فرار ہو کر فلسطین پہنچنا شروع ہو گئے تھے۔

ہرمن اور کیٹ نے بھی یورپ چھوڑنے کا فیصلہ کیا تو انہیں ایک مسیحی پادری نے فلسطین کی بجائے لاہور جانے کا مشورہ دیاکیونکہ اس وقت لاہورمسیحی اور یہودی سیاحوں اور تاجروں میں بہت مقبول شہر تھا۔ اس وقت باقی ہندوستان کے ساتھ لاہور بھی برطانیہ کے زیرتسلط تھا۔ چنانچہ ہرمن اور کیٹ نے یہاں آ کر لاہور کو اپنا مسکن بنا لیا۔ ہرمن اور کیٹ کی بیٹی ہیزل کاہن نے اپنے ماں باپ کے اس سفر کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ ”اس اطالوی پادری نے میرے والدین سے کہا تھا کہ تم فلسطین جانے کا کیوں سوچ رہے ہو۔ تمہارے پاس ڈاکٹری کی ڈگری ہے اور انڈیا میں انہیں یورپی ڈاکٹروں کی بہت ضرورت ہے، چنانچہ تم انڈیا جاﺅ۔“

ہیزل کاہن کا کہنا تھا کہ ”میرے والدین نے اس پادری کے کہنے پر فلسطین کی بجائے لاہور آنے کا فیصلہ کیا اور وقت کے ساتھ ساتھ ان کا فیصلہ بہترین ثابت ہوا۔ انہوں نے یہاں آ کر پریکٹس شروع کر دی اور ان کا کلینک بہت کامیابی سے چلا۔ میری پیدائش 1939ءمیں ہوئی۔ بچپن میں میں انگلینڈ اور انڈیا کے کئی بورڈنگ سکولوں میں رہی لیکن اکثر میں لاہور میں واقع اپنے گھر آتی رہتی تھی۔ 32سال کی عمر میں میری شادی ہو گئی اور تب سے میں انگلینڈ، آسٹریلیا اور اسرائیل میں رہ رہی ہوں۔میرے والد کا 2007ءمیں انتقال ہوا۔ تب میں نے ان کی لائبریری کھنگالی تو مجھے ان کی لکھی کئی ڈائریاں ملیں جن میں انہوں نے اپنی اور ہم سب کی زندگیوں کے واقعات تفصیل کے ساتھ بیان کر رکھے تھے۔میں 2011ءمیں 40سال بعد واپس لاہور گئی جہاں میرا بچپن گزرا تھا۔ میں اس علاقے میں گئی جہاں ہمارا گھر ہوتا تھا۔ اب وہاں سب کچھ بدل چکا تھا۔ ہمارا گھر 55لارنس روڈ پر تھا۔ اب اسے مکمل طور پر سفید رنگ کیا جا چکا تھا اور اس میں روہڑی خاندان رہائش پذیر تھا، جو پاکستان کے بااثرسیاسی گھرانوں میں ایک ہے۔ہمارا دوسرا گھر ’13گلبرگ 5‘ تھا جس میں اب رضا کاظم نامی ایک وکیل رہائش پذیر تھا۔ “ رپورٹ کے مطابق ہیزل کاہن مارکیٹنگ ریسرچ میں کامیاب کیریئر کی مالک ہیں اور اب امریکی شہر نارتھ فورک میں مقیم ہیں۔جہاں وہ لکھتی ہیں، فن پارے بناتی ہیں اور دو ریڈیو شوز کی میزبانی بھی کرتی ہیں۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں