شریک حیات کے ساتھ کون سا رویہ ہے جو موٹاپے کا باعث بنتا ہے؟

ایسا کون ہوگا جو گھر میں خوشگوار ماحول کا خواہش مند نہ ہو اور سب ہی اپنے شریک حیات سے ایک اچھا تعلق رکھنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔
لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اگر آپ اپنے شوہر یا بیوی سے اکثر جھگڑا کرنے کے عادی ہیں تو ایسا کرنا آپ کی صحت کے لیے کتنا نقصان دہ ہے؟
امریکا میں ہوئی ایک تحقیق کے مطابق آپ کی یہ عادت آپ کو موٹاپے کی جانب کے جاسکتی ہے۔
اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق اپنے شریک حیات سے تکرار یا جھگڑا ایسے ہارمون کو سرگرم کردیتا ہے جو ہمیں جنک فوڈ کے استعمال پر مجبور کرسکتا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ شوہر اور بیوی کے درمیان لڑائی سے بھوک بڑھانے والا ہارمون گیرلین کی مقدار بڑھ سکتی ہے مگر اس کا اثر ان افراد پر ہوتا ہے جو صحت مند وزن یا موٹاپے سے کچھ کم وزن کے حامل ہو۔
تحقیق میں کچھ جوڑوں کے درمیان کیے گئے تجربات سے معلوم ہوا کہ ازدواجی عدم اطمینان اور خوراک کے ناقص انتخاب کے درمیان تعلق موجود ہے، خاص طور پر لڑائی جھگڑے کے بعد لوگ ایسی غذا استعمال کرنا زیادہ پسند کرتے ہیں جس میں چربی، چینی اور نمک کی مقدار بہت زیادہ ہو۔
محققین کے مطابق ایسا دعویٰ تو نہیں کیا جاسکتا ہے کہ تکرار بھوک بڑھانے کا باعث بنتی ہے مگر ان دونوں کے درمیان ایک مضبوط تعلق ضرور پایا گیا ہے۔
اس سے قبل کی جانے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ بھوکے لوگ بہت جلد غصے کا شکار ہوتے ہیں کیونکہ ان کا پیٹ خالی ہوتا ہے اور ہمارے دماغ کو خود پر کنٹرول کرنے کے حوالے سے توانائی کی کمی کا سامنا ہوتا ہے۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں