ایسٹر دھماکے کے بعد سری لنکا میں مسلمانوں کی جانیں خطرے میں

سری لنکا میں ایسٹر دھماکوں کے بعد مسلمانوں کے جانیں خطرے میں پڑ گئیں،سری لنکا میں حالیہ مسلم کش فسادات شروع ہونے کے بعد لگنے والے کرفیو کے باوجود نامعلوم افراد نے ایک مسلمان شخص کو قتل کر دیا۔

کرے کوئی اور بھرے کوئی اور سری لنکا میں ایسٹر دھماکوں میں بھارت کے براہ راست ملوث ہونے کے شواہد روز روشن کی طرح عیاں ہیں مگر زندگی مسلمانوں پر تنگ کر دی گئی۔

سری لنکا میں ایسٹر دھماکوں کے بعد مسلمانوں اور ان کی املاک پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث ملک بھر میں رات کے اوقات میں کرفیو نافذ کردیا گیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سری لنکا کے مشرقی علاقے میں درجنوں مشتعل افراد نے مساجد اور کاروباری مراکز پر پتھراؤ کیا جب کہ ایک شخص کو سرعام تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایسٹر دھماکوں کے بعد یہ بد امنی کا سب سے بڑا واقعہ ہے۔

دوسری جانب ایسٹر دھماکوں کے بعد مسلمانوں کی املاک پر حملوں میں اضافے کے بعد حکام نے سوشل میڈیا پر بھی ایک بار پھر پابندی عائد کر دی ہے۔ پابندی کا فیصلہ مساجد پر پتھراؤ اور مسلمان تاجروں کی دکانوں میں توڑ پھوڑ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد کیا گیا ہے۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں