’’ آج کے بعد ڈالر کی قیمت کا تعین ہم کریں گے۔۔۔ ‘‘ وزیر اعظم عمران خان کی کرنسی ایکسچینج ایسوسی ایشن سے ہنگامی ملاقات ، ڈالر کی قیمت اتنی کم ہوگئی کہ پوری قوم خوشی سے نہال ہوگئی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت کرنسی ریٹ کے حوالے سے اعلی سطح کا اجلاس ہوا۔اجلاس میں چیئرمین ایف بی آر، گورنر اسٹیٹ بینک، ڈی جی ایف آئی اے اور ڈی جی آئی بی شریک ہوئے، اجلاس میں سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے وفدنے بھی شرکت کی۔

حکومت نے ڈالر مارکیٹ ریٹ سے مہنگا فروخت کرنے والی ایکسچینج کمپنیوں کے خلاف کاروائی کا فیصلہ کیا ہے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ٹیسٹ شدہ کرنسی ریٹ سے انحراف کرنے والی کمپنیوں کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔جب کہ ایمنسٹی سکیم کے تحت اثاثے ظاہر نہ کرنے والوں کے خلاف مجوزہ کاروائی پربھی غورکیا گیا۔اجلاس میں وفد نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ایس ای سی پی مقررہ حد سے زیادہ کرنسی فروخت کرنے والی کمپنیوں کا ساتھ نہیں دے گا۔اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ ڈالر کی مارکیٹ قیمت خرید 143 روپے 50 پیسے اور قیمت فروخت 144 روپے ہے۔

سعودی ریال کی قیمت خرید 38 روپے 20 پیسے اور قیمت فروخت 38 روپے 35 پیسے ہے۔وزیراعظم عمران خان سے کرنسی ڈیلرز عہدیداروں کی ملاقات ہوئی۔جس میں اتفاق کیا گیا کہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت خرید 143 روپے 50 پیسے اور قیمت فروخت 144روپے رہے گی۔جب کہ دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں دو روپے پچیس پیسے کمی ہوئی جس کے بعد ڈالر دوبارہ 144 روپے کا ہو گیا۔ اوپن مارکیٹ میں تیزی کے بعد ڈالر کی قیمت میں کمی ہوئی۔ یاد رہے کہ آج صبح کاروباری دن کے آغاز پر اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں دو روپے کا اضافہ ہوا تھا جس کے بعد ڈالرکی قیمت 146 روپے ہو گئی تھی تاہم مارکیٹ میں تیزی کے بعد ڈالر کی قیمت دوبارہ 144 روپے کی سطح پر واپس آ گئی ہے۔جبکہ دوسری جانب انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت تاحال مستحکم ہے جہاں ڈالر 141 روپے 39 پیسے پرفروخت ہو رہا ہے۔ یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے اوپن

مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں دو روپے کا اضافہ ہوا تھا جس کے بعد ڈالر کی قیمت 144 روپے ہو گئی۔گذشتہ ہفتے کے دوران ڈالر تین روپے مہنگا ہوا۔ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافہ اور روپے کی قدر میں ہونے والی مسلسل کمی باعث تشویش ہے کیونکہ ڈالر کی قیمت میں اضافے سے ملک میں مہنگائی کا نیا طوفان آنے کا خدشہ ہے۔واضح رہے کہ آئی ایم ایف سے ہونے والے مذاکرات کے بعد ماہرین معاشیات نے ڈالر کی قیمت میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ اس حوالے سے حال ہی میں ایک رپورٹ بھی سامنے آئی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ آئی ایم ایف سے بیل آوٹ پیکج ملنے کے بعد پاکستان کی کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔ کچھ ماہرین معیشت نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ آئی ایم ایف سے بیل آوٹ پیکج ملنے کے بعد پاکستان کی کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت روپے کے مقابلے میں 160 روپے تک جا سکتی ہے۔تاہم اس حوالے سے صورتحال آنے والے دنوں میں واضح ہوگی۔ جبکہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ممکنہ معاہدے کے خوفناک اثرات بھی سے سامنے آنے لگے ہیں۔ آئی ایم ایف سے ممکنہ معاہدے کی وجہ سے کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں ایک ہفتے کے دوران تین روپے کا اضافہ دیکھنے میں آیا ۔ تاہم آج ہفتے کے آغاز پر ڈالر کی قیمت میں ایک روپے کا اضافہ ہو گیا ہے جبکہ آگے بھی ڈالر کی قیمت میں اضافہ اور روپے کی قدر میں کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں