فضائی آلودگی پر قابو پانے کیلئے حکومت کابڑا اقدام

ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق اجلاس کی صدارت کے دوران وزیراعظم عمران خان نے ملک میں پہلی مرتبہ الیکٹرک گاڑیاں متعارف کروانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے ماحولیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے اجلاس میں ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق بریفنگ دی۔

اس دوران وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ملک میں چلنے والی 30 فیصد گاڑیوں کو 2030 تک الیکٹرک گاڑیوں (بجلی سے چلنے والی گاڑی) میں منتقلی کو یقینی بنانے کے احکامات جاری کیے۔

گلگت بلتستان میں تیز بارشوں اور سیلاب کے امکانات سے متعلق اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ہنزہ کے گاؤں حسن آباد میں شیسپیئر گلیشیئر ہر گزرتے دن کے ساتھ علاقہ مکینوں کے لیے خطرے کا باعث بن رہا ہے۔

وزیراعظم نے ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق ٹیم کو ملک میں گلیشیئرز کی نگرانی کے لیے گلیشیئر مانیٹرنگ سسٹم نصب کرنے کا عمل تیز کرنے کی ہدایت جاری کی۔

ملک بھر میں 10 ارب درخت لگانے کے منصوبے سے متعلق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ یہ قومی منصوبہ ہے اور اس معاملے کو سیاست سے نہیں جوڑنا چاہیے۔

اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملک امین اسلم نے بتایا کہ حکومت نے 2030 تک ملک میں برقی گاڑیاں متعارف کروانے کا منصوبہ بنایا ہے اس اقدام سے ماحول پر دیر پا اثرات مرتب ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ‘دنیا کے اکثر ممالک الیکٹرک گاڑیاں متعارف کروارہے ہیں اور پاکستان اس حوالے سے بہت پیچھے ہے۔

ملک امین اسلم کا کہنا تھا کہ ایک مرتبہ الیکٹرک گاڑیاں ملک میں متعارف ہوگئیں تو فضائی آلودگی میں کمی کے ساتھ ساتھ 2 ارب روپے کے ایندھن کی درآمد کی بچت ہوگی۔

وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں ملک میں فضائی آلودگی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے جو سردیوں کے موسم میں پنجاب خصوصا لاہور میں اسموگ کا باعث بنتا ہے۔

ان کا کہنا تھا الیکٹرک گاڑیوں کی مدد سے ایل پی جی اور کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) اسٹیشنز پر انحصار میں کمی آئے گی جن میں سے اکثر گیس کی بندش کے باعث پنجاب میں سردیوں کے موسم میں مختلف دنوں بند ہوجاتے ہیں۔

ملک امین اسلم نے کہا کہ ان سی این جی اسٹیشنز کو الیکٹرک گاڑیوں کے لیے چارجنگ ڈاکس میں تبدیل کیا جائے گا۔

پنجاب میں اسموگ کے مسئلے سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس پنجاب میں اسموگ کے سب سے بڑے ذریعہ فصل کو آگ لگائے جانے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ اس سال بھی پابندی عائد کی جائے گی اور حکومت نے فصلوں کا فضلہ خریدنے کا منصوبہ بنایا ہے جسے صنعتی یونٹس کو بیچا جائے گا۔

مشیر ماحولیاتی تبدیلی نے ملک میں گرین رکشے متعارف کروانے کے منصوبے کا اعلان بھی کیا اور بتایا کہ اس مقصد کے لیے حکومت مختلف اسٹیک ہولڈرز سے رابطے میں ہے۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں