گزشتہ حکومتوں میں اور تحریک انصاف کی حکومت کے دوران ڈالر کی قیمت کتنی بڑھی؟ وزیر اعظم کے معاون خصوصی اعداد و شمار منظر عام پر لے آئے

اسلام آباد (ویب ڈیسک) گزشتہ حکومتوں میں اور تحریک انصاف کی حکومت کے دوران ڈالر کی قیمت کتنی بڑھی؟ وزیر اعظم کے معاون خصوصی اعداد و شمار منظر عام پر لے آئے۔ پیپلز پارٹی کے دور میں ڈالر انٹر بینک میں 32 روپے بڑھا، مسلم لیگ ن کے دور میں 26 روپے جبکہ تحریک انصاف کی حکومت میں ابھی تک 18 روپے بڑھا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم کے معاون خصوصی افتخار درانی نے گزشتہ ادوار کے ڈالر ریٹ پیش کر دیے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت میں ڈالرکی قیمت میں 18.5 روپے کا اضافہ ہوا اور انٹر بینک ڈالرریٹ 128 روپے سے 146.5 کا ہو گیا ہے۔

آج بروز جمعہ وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی افتخار درانی کی جانب سے سابقہ حکومتوں کے ادوار میں ہونے والے ڈالر کی قیمتوں میں اضافے پر مبنی اعداد و شمار سامنے لائے گئے، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے اقتدار میں آنے سے پہلے ڈالر کی قیمت 64 روپے تھی جو کہ پی پی کی حکومت آنے کے بعد ڈالر انٹر بینک میں 32 روپے بڑھا اور اس طرح ڈالر 64 روپے سے 96 روپے تک چلا گیا۔

پھر اسی طرح جب مسلم لیگ ن کی حکومت آئی تو ڈالر کی قیمت 96 روپے تھی جو کہ 26 روپے اضافے کے ساتھ 122 تک پہنچ گئی۔ مسلم لیگ ن کی حکومت کے بعد عبوری حکومت میں ڈالر 6 روپے اضافے کے ساتھ 128 تک پہنچ گیا۔ جب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آئی تو ڈالر کی قیمت 128 روپے تھی جو کہ 18.5 روپے اضافے کے ساتھ موجودہ قیمت کو پہنچ گیا۔ واضح رہے کہ انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اس وقت مسلسل تنقید کی زد میں ہے، اورڈالر کی وجہ سے بڑھنے والی مہنگائی کی وجہ سے حکومت کو عوام کے شدید غم و غصے کا بھی سامنا ہے۔
تاہم حکومتی وزراء اور اراکین اسمبلی ان مشکل حالات میں عوام کو مسلسل حوصلے دے رہے ہیں اور اپنے کپتان کی پالیسی ’’گھبرانا نہیں‘‘ پر عمل پیرا ہیں۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں