سعودی عرب نے آئل پائپ لائن پر حملے کا الزام ایران پر دھر دیا

سعودی عرب کے نائب وزیر دفاع نے سعودی عرب کی ریاستی تیل کمپنی ‘آرامکو’ کے انفراسٹرکچر پر حملوں کا الزام ایران پر لگا دیا ہے۔

واضح رہے کہ 2 روز قبل سعودی عرب کی ریاستی تیل کمپنی ‘آرامکو’ کے انفراسٹرکچر مقامات پر ڈرون سمیت متعدد حملے کیے گئے تھے جس کی ذمہ داری یمن کے حوثی باغیوں نے قبول کی تھی۔
سعودی فرمانروا کے صاحبزادے شہزادہ خالد بن سلمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ٹوئٹر’ پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ‘حملے ثابت کرتے ہیں کہ حوثی باغیوں کو ایران اپنا دائرہ کار وسیع کرنے کے ایجنڈا کے لیے استعمال کر رہا ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘دہشت گردانہ حملے، جن کے احکامات تہران نے دیئے تھے اور جنہیں حوثیوں کے جانب سے کیا گیا، خطے میں سیاسی عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش تھی’۔
حوثی باغی کا کہنا تھا کہ انہوں نے منگل کے روز مشرق ۔ مغرب پائپ لائن پر ڈرون حملے کیے جس سے آتشزدگی ہوئی، تاہم ریاض کا کہنا تھا کہ ان حملوں سے پیداوار اور برآمدات متاثر نہیں ہوئی۔

حوثیوں کی سپریم انقلابی کمیٹی کے سربراہ محمد علی الحوثی نے حملوں کے لیے ایران کی جانب سے احکامات ملنے کے الزامات کو مسترد کیا اور کہا کہ ہماری تحریک مقامی سطح پر اپنے ڈرونز خود تیار کرتی ہے۔

تہران نے بھی حوثیوں کو اسلحہ فراہم کرنے کے الزامات کو مسترد کیا۔

محمد علی الحوثی کا کہنا تھا کہ ‘ہم کسی کے ایجنٹ نہیں ہیں، ہم اپنے فیصلے خود کرتے ہیں اور کسی کے احکامات پر عمل نہیں کرتے’۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں