اسکی نیت بھی ٹھیک ہے ، کام بھی ٹھیک کر رہا ہے ، ملک کا پیسہ بھی واپس آرہا ہے مگر جلد اسکی چھٹی ہونیوالی ہے ؟ جاوید چوہدری نے دھماکہ خیز پیشگوئی کر دی

لاہور (ویب ڈیسک) میں نے عرض کیا ’’آپ ریفرنس بنا دیتے ہیں لیکن یہ ریفرنس منطقی نتیجے تک نہیں پہنچتے‘ کیا یہ آپ لوگوں کی نااہلی نہیں‘‘ وہ ہنس کر بولے ’’مجھے آپ لوگوں کے ایسے تجزیوں پر اعتراض ہے‘ ہمارے پاس شکایت آتی ہے‘ ہم شکایت کی پڑتال کرتے ہیں‘ شکایت ٹھیک ہو تو انکوائری ہوتی ہے‘

نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ثبوت جمع کیے جاتے ہیں‘ تفتیش ہوتی ہے اور پھر ریفرنس بنا کر مقدمہ عدالت میں پیش کر دیا جاتا ہے‘ کیس وہاں جا کر رک جاتے ہیں‘ نیب نے اس وقت ساڑھے تین ہزار ریفرنس دائر کر رکھے ہیں‘ ہمارے پاس عدالتیں صرف 25 ہیں‘جج تیس دن میں فیصلے کا پابند ہے لیکن دس دس سال سے مقدمے لٹک رہے ہیں‘ ہمارے وکیل 75 ہزار سے ڈیڑھ لاکھ روپے تنخواہ لیتے ہیں‘ مخالفین دس دس کروڑ روپے کے وکیل کھڑے کر دیتے ہیں‘ ہمارے ایک کیس میں ملزم نے علی ظفر کو 25 کروڑ روپے فیس دی تھی جبکہ ہمارے وکیل عمران کی ماہانہ تنخواہ ڈیڑھ لاکھ روپے تھی‘ آپ فرق دیکھ لیجئے‘ دوسرا کرپٹ لوگ گینگ کی شکل میں کام کرتے ہیں‘ یہ بااثر اور رئیس لوگ ہوتے ہیں‘ یہ ایک دوسرے کو سپورٹ بھی کرتے ہیں‘ یہ عدالتوں سے بھی ریلیف لے لیتے ہیں۔یہ حکومتوں میں بھی شامل ہو جاتے ہیں اور یہ پورے سسٹم کو بھی ہائی جیک کر لیتے ہیں اور یوںاحتساب بے بس ہو جاتا ہے لیکن ہم نے اس کے باوجودساڑھے تین ہزارریفرنس بھی دائر کیے اور303ارب روپے کی ریکوری بھی کی‘ یہ چھوٹا کارنامہ نہیں‘ یہ نیب ہے جس کے خوف سے ملک ریاض نے سپریم کورٹ میں 460 ارب روپے ادا کرنے کا اعلان کیا‘ ہم نہ ہوتے تو یہ کبھی اتنی بڑی رقم کا وعدہ نہ کرتے‘ یہ ہم ہیں جن کی وجہ سے لاکھوں غریب لوگوں کو ان کی ڈوبی ہوئی رقم واپس ملی‘

آپ ہاؤسنگ سکیموں کے سکینڈل اٹھا کر دیکھ لیں‘ ہزاروں غریب لوگوں کو ان کی پوری زندگی کی جمع پونجی واپس ملی لیکن میڈیا کو یہ نظر نہیں آتا‘ آپ لوگ ہمیں نواز شریف‘ شہباز شریف‘ آصف علی زرداری اور بابر اعوان کے ریفرنس سے دیکھتے ہیں‘ ملک میں آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے‘ یہ ملک کرپشن کی دلدل میں دھنستا جا رہا ہے‘ یہ ہماری ماضی کی غلطیاں اور بدعنوانیاں ہیں جن کی وجہ سے ہم آج در در بھیک مانگ رہے ہیں‘ ہم اگر اس دلدل سے نکلنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں ملک کو کرپشن سے پاک کرنا ہوگا ورنہ دوسری صورت میں ہم ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں گے‘‘۔میں نے سوال کیا ’’ملک ریاض کا کیا قصور ہے‘‘ وہ بولے‘ میں اس شخص کا فین ہوں‘ میں خود بحریہ ٹاؤن میں رہتا ہوں‘ میرا بھانجا آسٹریلیا سے آیا‘ اس نے بحریہ ٹاؤن دیکھا اور بے اختیار کہا‘ یہ مجھے کینبرا جیسا لگتا ہے‘ میں بھیس بدل کر اس کے دستر خوان تک میں گیا‘ میں نے عام لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا‘ آپ یقین کریں وہ کھانا میری بیوی کے ہاتھوں سے پکے ہوئے کھانے سے بہتر تھا‘ میں سمجھتا ہوں ملک ریاض کو مزید کام کرنے کا موقع ملنا چاہیے تھا لیکن میں اس کے باوجود یہ بھی کہتا ہوں ملک ریاض نے بھی اگر گڑ بڑ کی ہے تو یہ بھی سزا بھگتیں گے۔سپریم کورٹ جس دن ان کا کیس ہمارے حوالے کرے گی ہم اس دن انھیں بھی کوئی رعایت نہیں دیں گے‘ میں نے پوچھا ’’اور احد چیمہ اور فواد حسن فواد کا کیا قصور تھا‘‘ وہ ہنس کر بولے ’’ایک کو تکبر لے بیٹھا اور دوسرے نے سفارشیں شروع کرا دی تھیں‘‘ اورمیں نے آخری سوال کیا ’’آپ باہر سے رقم واپس کیوں نہیں لا رہے‘‘ وہ ہنس کر بولے ’’باہر کی طاقتیں ہمارے کرپٹ لوگوں کی مدد کر رہی ہیں‘ یہ لوگ ان کو سپورٹ کر رہے ہیں‘‘۔ملاقات ختم ہوگئی‘ وہ مجھے دروازے تک چھوڑنے آئے‘ گرم جوشی کے ساتھ ہاتھ ملایا اور میں باہر آ گیا‘ مجھے محسوس ہوا یہ کرپشن کے خاتمے میں سنجیدہ ہیں‘ یہ دل سے غیرجانبدارانہ احتساب چاہتے ہیں‘ یہ سمجھتے ہیں کرپشن اور ملک دونوں اکٹھے نہیں چل سکتے اور یہ کسی پارٹی‘ کسی شخص اور کسی محکمے کو سپورٹ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں لیکن سوال یہ تھا یہ غیرجانبدار رہ کر کتنا عرصہ سروائیو کر سکیں گے؟ مجھے محسوس ہوا یہ بھی بہت جلداسد عمر بنا دیئے جائیں گے‘ یہ بھی زیادہ دیر تک نہیں ٹک سکیں گے۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں