جب اچانک جنات سے سامنا ہو جائے تو کیا کرنا چاہیے؟ یہ وظیفہ سیکھ لیں، لاکھوں جنات بھی مقابلہ پر آئیں گے تو آپ کا پلہ بھاری ہوگا !!!

اس زمین پر جنات انسانوں سے زیادہ تعداد میں ہیں ہماری زندگی میں جنات کا عمل دخل عام مسئلہ بن گیا ہے ،مذہب سے دوری اور سماجی اخلاقی طور پر زوال کی جانب بڑھنے سے ہماری زندگیوں اور معاملات پر ہوائی اور ناری مخلوق کا قبضہ ہوتا جارہا ہے جس کی وجہ سے

لوگ عاملوں سے رابطے کرتے ہیں۔ قرآن و حدیث میں شر پسند شیطانی مخلوق سے پناہ کے لئے بے شمار ہدایات موجود ہیں ۔ایسے مسلمانوں کو جنہیں یہ شکایت ہو اور جو سمجھتے ہوں کہ اچانک جنات کا ان سے سامنا ہوگیا ہے تو انہیں گھبرانے کی بجائے آیت الکرسی کا یہ عمل کرنا چاہئے ۔ اس عمل سے پہلے لازم ہے کہ اس کو آیت الکرسی مکمل یاد ہو۔ جنات کے خطرہ کے پیش نظر آیت الکرسی کوا سطرح پڑھنا چاہئے کہ جب ولا یودہ حفظھما تک پہنچیں تو اسکو لگاتار ستر بار پڑھ لیں ،اس موقع پر اگر لاکھوں جنات بھی آپ پر حملہ آور ہوں گے تو اللہ کے حکم سے وہ بھاگ جائیں گے ۔ دوسری جانب جن بھی انسان کی طرح ہی اللہ کی ایک قسم کی مخلوق ہے جو آگ سے پیدا کی گئی ہے ، بنی آدم یعنی نوع انسانی کی طرح ذی عقل اور ارواح واجسام ( روح و جسم والا) والی ہے ، ان میں توالد و تناسل بھی ہوتا ہے یعنی انسانوں کی طرح ، ان کی بھی نسل بڑھتی اور پھولتی پھلتی ہے ، کھاتے پیتے ، جیتے مرتے ہیں ، مگر ان کی عمریں بہت طویل ہوتی ہیں۔

ان کی عمریں ہزاروں سال ہوتی ہیں۔ جنات میں مسلمان بھی ہیں کافر بھی ، مگر ان کے کفار ، انسان کی بہ نسبت بہت زیادہ ہیں ، ان کے مسلمان نیک بھی ہیں اور فاسق بھی ، البتہ ان میں فاسقوں ، بدکاروں کی تعداد بہ نسبت انسان زائد ہے ، شریر جنوں کو شیطان کہتے ہیں ، ان سب کا سرغنہ ابلیس ہے۔جو کہ سب سے پہلے جن “مارج” کے پوتے کا بیٹاتھا۔ابلیس نے حضرت آدم علیہ السلام کو غرور میں آکر سجدہ کرنے سے انکار کردیا تھا اور حکم خداوندی کی نافرمانی کی تھی جس کی وجہ سے راندہ بارگاہ الہٰی ہوا ، اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مردود کیا گیا ، قیامت تک کے لئے اسے مہلت دی گئی۔اور اسے اس قدر مہلت دینا اس کے اکرام کے لئے نہیں، بلکہ اس کی بلا شقاوت اور عذاب کی زیادتی کے لئے ہے ۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں