مشکل کی اس گھڑی میں اگر پاکستان ایران کو گلے سے لگا لے تو مستقبل قریب میں اس کا پاکستان کو کیا فائدہ پہنچنے والا ہے ؟ صف اول کی ایک شاندار تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) امریکہ نے اپنا ایک اور طیارہ بردار جہاز مشرقِ وسطیٰ روانہ کر دیا ہے۔ اس سے قبل بھی مشرق وسطیٰ میں امریکی موجودگی اپنی پوری قوت کا مظاہرہ کرتی رہی ہے۔ عراق پر دو مرتبہ حملہ، لیبیا اور شام میں جنگی طیاروں کا استعمال ،عراق اور لیبیا تقریباً تباہ کر دیئے گئے۔

نامور کالم نگار صدیق اظہر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔عراق میں امریکی حملے کا نتیجہ ایک مسلسل خانہ جنگی کی صورت میں برآمد ہوا۔ عراقی عوام میں عرب، کرد لسانی جھگڑا اور شیعہ سنی فرقہ وارانہ تعصبات نے ایک عذاب کی طرح پورے عراق کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور دیگر عرب ممالک بھی اس کی لپیٹ میں آ رہے ہیں۔ شام میں بھی ایسی ہی تقسیم ہو چکی ہے ،اگر دیکھا جائے تو عرب ایران لسانی اور علاقائی تعصب بھی اب فرقہ واریت کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ صرف مشرقِ وسطیٰ ہی نہیں ،اس کے مظاہر افغانستان اور پاکستان میں بھی دیکھے جاتے ہیں۔ تاریخی حوالے سے امریکہ اس ساری صورت حال میں نہ صرف خوش ہے ،بلکہ اس کے آغاز کا باعث بھی تھا، جبکہ اسرائیل مشرق وسطیٰ میں مسلسل توسیع پسندانہ حکمت عملی سے ایک وسیع صہیونی ریاست کا خواب پورا کرتا نظر آ رہا ہے۔ امریکہ نے شام کے پہاڑی علاقے جولان پر اسرائیل کے قبضے کو بھی جائز قرار دے دیا ہے۔ یہ اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کو مزیدشہ دینے کے مترادف ہے۔صدر ٹرمپ کا رویہ بھی اسرائیلی رویے سے مختلف نہیں ہے۔ امریکہ کے حالیہ اقدام کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کے بند ہونے کے خطرات بھی پیدا ہو چکے ہیں۔ یہ خطرہ ایرانی اقدام سے بھی ہے جو امریکی اقدام کے جواب میں ہو سکتا ہے۔ سعودی عرب اس حوالے سے امریکہ کی حمایت کرے گا جو خطے میں اسرائیل کی بالادستی پر منتج ہو گا۔ فلسطین پر اسرائیلی قبضہ اس اقدام سے مزید مستحکم ہو جائے گا، یوں مملکت کو صدر بارک اوباما دور کی دو ریاستوں کی پالیسی کو نقصان پہنچے گا اور فلسطین کی آزادی ایک خواب بن جائے گی۔

پاکستان اور ایران کے درمیان تعمیر ہونے والی گیس پائپ لائن کے حوالے سے متعلقہ ترجمان نے ایک غیر ملکی خبررساں ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان نے ایران پاکستان گیس پائپ لائن پر کام کرنے سے انکار کر دیا ہے اور ایرانی حکومت کو اس حوالے سے اطلاع بھی کردی ہے۔اس کے معنی یہ ہوئے کہ پاکستان نے ایران پر نہ صرف امریکی پابندیوں کو قبول کر لیا ہے، بلکہ آئی ایم ایف کے وفد کی اسلام آباد آمد سے قبل یہ فیصلہ کر لیا گیا تھا۔آئی ایم ایف نے لاطینی امریکہ اور دیگر ممالک میں امریکی مفادات اور احکامات نافذ کرنے کے لئے اس سے قبل بھی کچھ شرائط پر قرض کی حامی بھری ہے۔ آئی ایم ایف ایک طرف پاکستان کے مالی اور اقتصادی اداروں کو اپنے عہدیداروں سے بھر رہا ہے تو دوسری طرف علاقائی سیاست اور معاشی رابطوں کو بھی کنٹرول کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔چین نے جب ایران پر امریکی پابندیوں کو قبول نہ کیا تو صدر ٹرمپ نے امریکہ کی تجارتی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات امریکہ میں تیار کرنے کا مشورہ دے دیا ہے، لیکن کیا امریکی کمپنیوں کے لئے اپنی مصنوعات کی تیاری کے لئے سستی محنت، اور کئی گنا سستی ان پٹ امریکہ میں دستیاب ہو سکے گی ۔یہ کسی طرح بھی ممکن نہیں ہے۔ اس طرح صدر ٹرمپ کے اس مشورے پر عملدرآمد مشکل ہو جائے گا۔ہمارے لئے سب سے اہم معاملہ اپنے دیرینہ دشمن بھارت کے رویہ کا ہے۔ بھارت چاہ بہار میں بڑی سرمایہ کاری کر چکا ہے جس کے نتیجے میں اس کے لئے ایران کے ساتھ سرد مہری اختیار کرنا باعث نقصان ہوگا۔ اس کے علاوہ وہ ایران کو افغانستان اور وسطی ایشیا میں اپنی تجارت کے روٹ کے لئے بھی استعمال کرنا چاہتا ہے۔یہ بات شاید ہمارے علم میں نہ ہو کہ وسطی ایشیا میں بھارت کی فارماسیوٹیکل مصنوعات خوب بک رہی ہیں، اس کے علاوہ بھی بھارت کے ساتھ ان ممالک کی تجارت جاری ہے۔ ہمیں بھارت کو یہ موقع نہیں دینا چاہئے کہ ایران میں بھارت کا اثر و رسوخ بڑھ جائے۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں