اسلام آباد میں قتل کئے جانے والی بچی’فرشتہ‘ کے قاتل کا پتہ چل گیا متعلقہ تھانے کا ایس ایچ او معطل،ڈی جی آپریشنزکا اہم بیان سامنے آگیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) اسلام آباد میں دس سالہ بچی سے مبینہ طور پر زیادتی اور قتل کیس سے متعلق اہم خبر سامنے آئی ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مقدمہ دیر سے درج کرنے پر ایس ایچ او شہزاد ٹاؤن کو معطل کر دیا گیا ہے۔جب کہ ایچ ایس او شہزاد ٹاؤن کے خلاف محکمانہ انکوائری کا حکم بھی دے دیا گیا۔ میڈیا رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ ڈی آئی جی آپریشنز کا کہنا ہے کہ بچی کے قاتل سراغ لگا لیا گیا ہے جلد ہی کامیابی ملے گی۔

واضح رہے پانچ روز قبل اسلام آباد کے علاقے علی پور سے اغوا ہونے والی لڑکی کی مسخ شدہ لاش جنگل سے برآمدہوئی۔اغوا کا مقدمہ تھانہ شہزاد ٹاؤن میں 19مئی کو درج کیا گیا تھا۔پولیس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق لڑکی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا۔پوسٹ مارٹم مکمل ہونے کے بعد لاش ورثاء کے حوالے کر دی گئی ہے۔ورثاء نے پولیس پر تعاون نہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

اس حوالے سے بعض میڈیا رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ فرشتہ مہمند پندرہ مئی کو اسلام آباد کے علاقے چک شہزاد میں گھر کے باہر سے غائب ہوئی۔ والدین چار دن تک تھانے کے چکر کاٹتے رہے، پولیس نے ایف آئی آر درج نہیں کی۔ لڑکی کے خاندان کا کہنا ہے کہ پولیس مقدمہ درج کرنے میں ٹال مٹول کرتی رہی۔ لواحقین نے پولیس کے خلاف احتجاج بھی کیا اور انصاف کا مطالبہ کیا جب کہ دوسری طرف سوشل میڈیا پر فرشتہ کی مسخ شدہ لاش کی تصاویر وائرل ہو گئی ہیں جس نے سب کو جنھجوڑ کر رکھ دیا ہے۔جب کہ وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے بچی کے قتل کے واقعے کا نوٹس لیا تھا جب کہ آئی جی اسلام آباد سے واقعے کی تفصیلات بھی طلب کی تھیں۔ سوشل میڈیا پر بھی فرشتہ کو انصاف دلوانے کے لیے آواز اٹھائی جا رہی ہے۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں