پنجاب:کرپٹ پولیس افسران کو تخفظ۔۔ ایماندار معطل انکوائریز میں پول کھل گیا ۔۔ 9 افسر بحال ،سابق آئی جی نے غلط رپورٹس پر 36 معطل کئے۔ انکوائری میں افسران پھٹ پڑے

لاہور (رپورٹ :ملک ظہیر)آئی جی پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان نے مختلف الزامات پر معطل ہونے والے 36 ڈی ایس پی میں سے 9ڈی ایس پیز کو انکوائری میں بے گناہ ثابت ہونے پر ملازمت پر بحال کر نے کے احکامات جا ری کر دیئے ۔بتایا گیا ہے کہ سابق آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی نے وزیر اعظم کے کرپٹ افسران کے خلاف کارروائی کے تناظر میں سی سی پی او ،آر پی او ز اور ڈی پی اوز سے کرپٹ ڈی ایس پیز کے خلاف رپورٹ طلب کر لی جبکہ جس پر پولیس کے اعلی افسران نے پسند نا پسند کی بنیاد پر رپورٹس بھجوا ئیں جس پر 36ڈی ایس پیز کو معطل کر دیا گیا جبکہ حقیقت میں کرپٹ ڈی ایس پیز کو اعلی افسران نے سینے سے لگا رکھا ہے اس بارے معطل ڈی ایس پیز نے انکوائری افسران کو بھی آگاہ کیا تھا ۔

ان ڈی ایس پیز میں چار ماہ سے سی پی او میں کلوز ڈی ایس پی شیخ ارشد لطیف بھی شامل تھا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی ایس پی شیخ ارشد لطیف جب سابق آئی جی پنجاب کے پیش ہوئے تو انہوں نے کہا کہ آپکی کرپشن کی شکایت ہے جس پر ڈی ایس پی نے بتایا کہ (پی ایس پی) ایس پی نے کرپشن کی ہے آپ اسکی انکوائری کروالیں ۔ بتایا گیاہے کہ آئی جی (پی ایس پی) افسر کی شکایت پر ڈی ایس پی سے ناراض ہو گئے تب 36کرپٹ اور نااہل ڈی ایس پیز کی لسٹ میں شیخ ارشد لطیف کا نام بھی شامل کر دیاگیا ۔

اس ڈی ایس پی پر سابق وزیر اعلی پنجاب کی نیب میں پیشی پر ایک گھنٹہ تاخیر سے پہنچے کا الزام عائد کیا جبکہ پولیس اہلکاروں کی جانب سے منشیات فروش کی نشاندہی پر ایک ایڈووکیٹ کے گھر ریڈ پر ڈی ایس پی کو معطل کیا گیا ۔تاہم سابق ایس پی ماڈل ٹاﺅن علی وسیم نے انکوائری کی تو ڈی ایس پی نے ایک گھنٹے تاخیر سے قبل ڈیوٹی کے دوران اہلکاروں کی غیر حاضری کنٹرول کرانے کا ریکارڈ پیش کر دیا ۔اسی طرح دوسری انکوائری میں بھی دوسری مرتبہ بے گناہ ثابت ہوئے ۔اسی طرح ڈی ایس پی سید ریاض علی شاہ پر لاہور میں تعینات سابق ایس پی سی آئی اے نے آئی جی پنجاب کوشکایت کی جس پر ڈی ایس پی پریہ الزام عائد کیا کہ سی آئی اے علامہ اقبال ٹاﺅن 2018میںتعیناتی کے دوران کارگردگی ناقص تھی ۔سابق ایس ایس پی آپریشن لاہور مستنصر فیروز نے انکوائری کی تو الزامات غلط ثابت ہونے ڈی ایس پی سید ریاض علی شاہ کو بے گناہ کر دیا گیا ۔اسی طرح ڈی ایس پی فاتح عالم ،سیلم شاہ طاہر مجید خان ،خالد ڈار وغیرہ 9ڈی ایس پیز کو آئی جی پنجاب کے ادرل روم میں پیش ہوئے جو انکوائری رپورٹس کی روشنی میں انہیں ملازمت پر بحال کر دیا گیا ۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں