پاک آرمی کے وہ دو جرنیل جنہوں نے 1998 میں ایٹمی دھماکے کرنے کی مخالفت کی تھی ۔۔۔۔ سہیل وڑائچ کی کتاب غدار کون میں تہلکہ خیز انکشاف

لاہور (ویب ڈیسک) یوم تکبیر وہ دن ہے جب ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان کو ناقابل تسخیر بنادیا گیا۔ 11مئی1998 کو جب بھارت نے پوکھران میں جوہری دھماکے کئے تو وزیراعظم نوازشریف قازقستان کے شہر الماتے میں تھے۔ وزیراعظم نے وہیں سے آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کو ٹیلیفون کر کے کہا کہ

نامور کالم نگار محمد بلال غوری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھارت کو جواب دینے کے لئے ایٹمی دھماکوں کی تیاری کریں۔ جنرل جہانگیر کرامت دانشور سپہ سالار تھے، انہوں نے تجویز دی کہ جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہ کریں، آپ کی وطن واپسی پر اس فیصلے کے تمام منفی اور مثبت پہلوئوں پر غور کرنے کے بعد کوئی قدم اُٹھایا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔ نواز شریف اپنا دورہ مختصر کرکے پاکستان واپس آگئے اور 13مئی کو کابینہ کی دفاعی کمیٹی کا اجلاس بلا لیا گیا۔ اس اجلاس میں تینوں سروسز چیفس نے شرکت کی۔ وفاقی وزیر خارجہ گوہر ایوب، وفاقی وزیر خزانہ سرتاج عزیز اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری شجاعت کے علاوہ کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور پاکستان اٹامک انرجی کمیشن سے ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے اس اجلاس میں شرکت کی۔ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر اشفاق احمد ان دنوں امریکہ میں تھے جنہیں فوری طور پر وطن واپس پہنچنے کا کہہ دیا گیا تھا۔ آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت چاہتے تھے کہ سیکرٹری فنانس معین افضل کو اس اجلاس میں بلا کر بریفنگ لی جائے کہ ایٹمی دھماکوں کے ملکی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہونگے۔ وزیراعظم نے اس سطح کے اجلاس میں سیکرٹری فنانس کو بلانے کی اجازت تو نہ دی البتہ وزیر خزانہ سرتاج عزیز سے ممکنہ صورتحال پر رائے دینے کو کہا گیا۔ سرتاج عزیز ایٹمی دھماکوں کے حق میں نہیں تھے اور ان کا خیال تھا کہ ایٹمی دھماکے کرنے کے بجائے معاشی پیکج اور قومی سلامتی کے تحفظ کی ضمانت حاصل کی جائے۔ سہیل وڑائچ کی کتاب ’’غدار کون‘‘میں نواز شریف نے دعویٰ کیا ہے کہ

دفاعی کمیٹی کے اس اجلاس میں آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت اور نیول چیف ایڈمرل فصیح بُخاری دونوں نے ایٹمی دھماکوں کی مخالفت کی جبکہ پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر مارشل پرویز مہدی قریشی نے ایٹمی دھماکے کرنے کے حق میں رائے دی۔ اس دوران جتنے بھی اجلاس ہوئے ان کے شرکا نے اپنی فہم و فراست کے مطابق صدق دل سے جو رائے دی یقیناً وہ کسی بدنیتی پر مبنی نہیں تھی بلکہ اپنے تئیں سب ملکی مفاد کو عزیز تر جانتے ہوئے ہی حمایت یا مخالفت کر رہے تھے۔ جنرل جہانگیر کرامت نے شجاع نواز کی کتاب ’’کراس سوارڈز‘‘ میں اپنے موقف کا یہ کہتے ہوئے دفاع کیا کہ وہ چاہتے تھے جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہ کیا جائے۔ جنرل جہانگیر کرامت کہتے ہیں کہ ایٹمی دھماکوں کے نتیجے میں امریکی قوانین کے تحت پابندیاں لگیں گی یہ بات سب جانتے تھے مگر ہم چاہتے تھے کہ ایٹمی دھماکوں کے بعد بجٹ میں کسی قسم کی رکاوٹ کے نتیجے میں افواج پاکستان کی آپریشنل استعداد کار میں کمی نہ آئے، بالخصوص کشمیر کاز متاثر نہ ہو۔ ہمیں یہ یقین دہانیاں کروا دی گئیں اور بس یہی ہم چاہتے تھے۔ اگلے روز یعنی 14مئی کو وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا تو یوں لگا جیسے نواز شریف کے گرد ’’امن کی فاختائوں‘‘ کا بسیرا ہے۔ سرتاج عزیز جو وفاقی وزیر خزانہ تھے، انہوں نے اپنی کتاب Between Dreams and Realitiesمیں اس اجلاس کی روداد بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ تین وفاقی وزرا نے Hawkish lineاختیار کی اور کہا کہ فوری طور پر ایٹمی دھماکے کئے جائیں۔

6وفاقی وزرا نے Doveish lineلی اور یہ موقف اختیار کیا کہ ہمیں ایٹمی دھماکے کرکے عالمی دبائو کا سامنا کرنے کے بجائے بھارت کو سفارتی سطح پر تنہا کرنا چاہئے اور ایٹمی دھماکے نہ کرنے کے عوض ملنے والے معاشی پیکج کو قبول کرلینا چاہئے۔ باقی 6وزرا کے بارے میں سرتاج عزیز کا خیال ہے کہ نہ تو انہیں Hawkکہا جاسکتا ہے اور نہ ہی Doveقرار دیا جا سکتا ہے۔ ان کیلئے سرتاج عزیز نے Hovesکی اصطلاح استعمال کی ہے جسکا مطلب ہے کہ وہ نہ تین میں تھے نہ تیرہ میں۔ اس وقت کے وزیر خارجہ گوہر ایوب نے اپنی کتاب Glimpses into the corridors of powersمیں’’امن کی فاختائوں‘‘کو بے نقاب کیا ہے۔ اُن کا دعویٰ ہے کہ سرتاج عزیز ہی نہیں، چوہدری نثار علی خان، بیگم عابدہ حسین اور مشاہد حسین سید بھی ایٹمی دھماکوں کے مخالف تھے۔ بہر حال بحث و تمحیص کے بعد فیصلے کا اختیار وزیراعظم کو دیدیا گیا۔ اب صورتحال یہ تھی کہ ایک طرف بھارتی قیادت کی جانب سے اشتعال انگیز رویہ اختیار کیا جا رہا تھا، ایل کے ایڈوانی اور بھارتی وزیراعظم واجپائی ایٹم بم گرانے کی دھمکیاں دے چکے تھے اور دوسری طرف ایٹمی دھماکے نہ کرنے کے لئے عالمی دبائو بڑھتا جارہا تھا۔ امریکی صدر بل کلنٹن نے نواز شریف کو پانچ مرتبہ ٹیلیفون کر کے ایٹمی دھماکے نہ کرنے کو کہا اور پانچ ارب ڈالر کی معاشی و فوجی امداد کی پیشکش کی۔ اس پیشکش کو ٹھکرانا آسان نہ تھا کیونکہ معاشی اعتبار سے پاکستان شدید مشکلات کا شکار تھا۔ ایٹمی دھماکوں کی صورت میں نہ صرف معاشی پابندیاں لگتیں بلکہ آئی ایم ایف سے

ملنے والا 2ارب ڈالر کا قرضہ بھی منسوخ ہوجاتا جس سے صورتحال مزید بگڑ جاتی۔ امریکی صدر نے پاکستان کو ایٹمی دھماکوں کے ممکنہ نتائج سے آگاہ کرنے کیلئے نائب وزیر خارجہ اسٹروب ٹالبوٹ کو پاکستان بھیجا، جنہوں نے اپنی کتاب Engaging India میں اعتراف کیا ہے کہ حکومت پاکستان نے کسی قسم کا دبائو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور صاف کہہ دیا کہ بھارت کے ایٹمی دھماکوں کا جواب دینے کے سوا کوئی آپشن نہیں۔ 18مئی 1998ءکو پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے سربراہ ڈاکٹر اشفاق احمد کو ایٹمی دھماکوں کیلئے گرین سگنل دیدیا گیا۔ 28مئی 1998ءکو دوپہر تین بج کر سولہ منٹ پر چاغی کے پہاڑوں سے تکبیر کی صدا گونجی اور پاکستان ایٹمی طاقت بن گیا۔ وزیراعظم نوازشریف نے 28مئی کو یوم تکبیر کے طور پر منانے کا اعلان کیا لیکن بدقسمتی سے ایٹمی دھماکوں کی پہلی سالگرہ کے چند ماہ بعد ہی منتخب جمہوری حکومت کا تختہ اُلٹ کر اس وزیراعظم کو کال کوٹھڑی میں پھینک دیا گیا جس نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کا قابل فخر فیصلہ کیا۔ یقیناً ضیاءالحق کے دور میں بھی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر پیشرفت ہوئی مگر اس حقیقت کو کون جھٹلا سکتا ہے کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کا کریڈٹ دو وزرائے اعظم کو جاتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو جنہوں نے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی اور میاں نواز شریف جنہوں نے ایٹمی دھماکوں کا فیصلہ کرکے آخری جست لگائی۔ کیا یہ مقام فکر نہیں کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے والے وزرائے اعظم میں سے بھٹو کو پھانسی دیدی گئی اور نواز شریف آج بھی پابند سلاسل ہیں۔ آخر یہ کیوں ہوا؟ یوم تکبیر ضرور منائیں لیکن اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوئی تدبیر بھی بتائیں۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں