سمندر میں ڈوبنے والا 800 سال پرانا بحری جہاز دریافت، ماہرین کو اس کے اندر کیا ملا؟ دیکھ کر سب کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) بحریشمالی چین میں ڈوبنے والا ایک 800سال پرانا بحری جہاز دریافت ہوا ہے جس میں ایسی چیزیں موجود تھیں کہ دیکھ کر ماہرین کی آنکھیں بھی حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ میل آن لائن کے مطابق یہ جہاز چین کا تھا، جب چین میں سونگ سلطنت قائم تھی۔ اس میں سونے کے زیورات اور قیمتی نوادرات لدے ہوئے تھے اور یہ بحر ہند کی طرف جا رہا تھا جب بحر شمالی چین میں یہ سمندر میں ڈوب گیا۔ اس جہاز کا نام ’نن ہائی اول‘ (Nanhai I)تھا۔

رپورٹ کے مطابق یہ چین کا سب سے قدیم اور سب سے بڑا جہاز تھا جو پہلی بار 1987ءمیں سمندر کی تہہ میں دریافت ہوا اور چینی حکام نے اس کا ملبہ 2007ءمیں سمندر سے نکالا اور اب اس کا ملبہ اور اس سے نکلنے والے زیورات اور نوادرات گوانگ ڈونگ میوزیم میں رکھے گئے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ”یہ جہاز تجارت کا مال لے کر ’سمندری سلک روٹ‘ پر سفر کرتے ہوئے بحر ہند کی طرف جا رہا تھا۔ غوطہ خور اس سمندری علاقے میں ڈوبنے والے ڈُچ ایسٹ انڈیا کمپنی کے جہاز ریمزبرج کی تلاش کر رہے تھے جب انہیں نن ہائی اول کا ملبہ مل گیا۔ چائنیز انسٹیٹیوٹ آف انڈرواٹر آرکائیولوجی کے ڈائریکٹر جیانگ بو کا کہنا تھا کہ ”ممکنہ طور پر اس جہاز پر وزن زیادہ تھا، جس کی وجہ سے یہ ڈوبا، تاہم سمندری طوفان کا پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ممکن ہے کہ کوئی طوفان آیا ہو جس کی وجہ سے یہ ڈوب گیا ہو۔“

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں